ماجد صدیقی کا غائبانہ تعارف تو عرصے سے تھا۔ اور کبھی کبھی اخبارات و رسائل میں بھی ان کا کلام نظر سے گذرتا۔ مگر ایک روز کالج میں مشہور ہوا کہ ماجد صدیقی صاحب تبدیل ہو کر یہاں آ گئے ہیں۔ یہ تبدیلی اگر محض مکانی تھی تو بہرحال خوب تھی اور اگر تبدیلی ماجد صدیقی میں تھی تو ہم حیران تھے۔ ہماری پہلی ملاقات کچھ ایسی حوصلہ افزا نہ تھی بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ قدرے مایوس کن تھی۔ مسکرانے میں محتاط اور گفتگو میں کنجوسی کی حس تک خاموش طبع یہ شخص، کسی طور بھی تو شاعر دکھائی نہ دیا۔ ہم نے کئی بولیاں بولیں کہ وہ کوئی زبان تو سمجھ سکے لیکن نتیجہ جوں کا توں رہا شاید ہماری باتیں اس قابل ہی نہ تھیں کہ سنی جاتیں اور یقیناً ایسا تھا۔ بہرحال، مجموعی طور پر تاثر پر کشش نہ تھا۔ سوچا کہ موصوف کا کلام بھی مجموعی طور پر ایسا ہی ہو گا۔ جیسا ہر ہوٹل میں بیٹھنے والے دو چار انٹلیکچویل نما شاعروں کا ہوتا ہے۔ 

ملاقاتیں بڑھتی گئیں اور ماجد صدیقی کے جوہر کھُلتے گئے۔ ادبی ذوق سے سرشار ماجد صدیقی کی دوستی اس بے ادب کے ساتھ منزلیں طے کرتی گئی۔ اور پتہ یہ چلا کہ ماجد گفتگوئے محض سے زیادہ تنقید پسند کرتا ہے۔ میں نے بہت کم لوگ ایسے دیکھے ہیں جو نہایت انہماک اور خاموشی سے تنقید سنتے اور اس کا مثبت اثر قبول کرتے ہوں۔ ماجد صدیقی اگر کوئی غزل سناتا ہے تو اس پر گھنٹہ بھر تنقید سننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اسی لئے تو وہ فن کی بلندیوں کو چھوتا ہوا پایا جاتا ہے۔ 

ماجد کا مجموعہ آغاز نظر سے گذرا۔ مجھ جیسا ادب سے کورا اور بے بہرہ شخص تبصرہ کرنے سے تو قاصر ہے البتہ چند ایک تاثرات اس مجموعے نے ذہن پر ضرور چھوڑے ہیں۔ ماجد صدیقی کے اندر ایک نوجوان دل کی دھڑکن پائی جاتی ہے۔ لیکن یہ دھڑکن محض جذبات کا نتیجہ نہیں، بلکہ منطق اور مشاہدات سے بھرپور ہے۔ بظاہر خاموش طبع شاعر، حد درجہ حساس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماجد صدیقی کے اشعار نہ صرف بولتے ہیں بلکہ دھڑکتے محسوس ہوتے ہیں۔ اور پڑھنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اشعار و احساسات اس کے اپنے ہیں۔ اسی لئے ماجد زندگی سے بہت نزدیک ہے اور زندگی سے اپنا رشتہ کبھی بھی منقطع نہیں کرتا۔ ماجد الفاظ کا محتاج نہیں۔ بلکہ الفاظ اس کے خیالات کے محتاج نظر آتے ہیں۔ اسی لئے اس کے یہاں لفاظی نظر تک نہیں آتی۔ بلکہ وہ روزمرہ کی زبان استعمال کرتا ہے بلکہ الفاظ سے زیادہ مغز سخن پر زور دیتا ہے۔ 

ماجد صدیقی کی پنجابی شاعری ایک عام سیدھے سادے دیہاتی کی شاعری ہے۔ یہ شاعری ٹیلی ویثرن، ریڈیو اور ادبی شاموں تک محدود نہیں، بلکہ یہ گلی کوچوں کی شاعری ہے۔ یہاں بھی ماجد صدیقی نے مشکل سے مشکل مضامین بہت آسان اور سادہ انداز میں پیش کئے ہیں۔ وہ عام آدمی کو تعلیم دیتا، اُبھارتا اور حوصلہ بخشتا ہے۔ ماجد کے اشعار میں زندگی کے تلخ احساسات و جذبات کے مطالعہ سے انسان اپنے آپ کو تازہ دم محسوس کرتا ہے۔ ماجد صدیقی اپنی اس کوشش میں کامیاب ہے۔ کہ وہ عوام الناس تک پہنچتا ہے صرف دانشوروں تک محدود ہو کر نہیں رہ جاتا۔ ماجد صدیقی کی نئی کتاب ’’صورتِ احوال آنکہ‘‘ نثر میں ہے اور مصنف کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ وہ اپنی ستائش کرنا چاہتا ہے۔ اور نہ ہی یہ سوانح حیات ہے۔ پڑھنے کے بعد قاری طنز و مزاح ہی سے لطف اندوز نہیں ہوتا بلکہ قومی سطح پر سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ملک کے 85فیصد محنت کش عوام کے پسینے کی بدولت شہروں میں آسائشوں کے مالک، پُر سکون دن اور پُر سکون راتیں گذارنے والے، یہ سوچنے لگتے ہیں۔ کہ کیا ہم اپنا قرض خاطر خواہ طور پر چکا رے ہیں۔ ماجد کی یہ کتاب ایسا نقشہ پیش کرتی ہے جس سے دیہاتی سکولوں کے نظم کی انتظامی مشکلات اور پریشانیوں کا پتہ چلتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے دیہاتی سکولوں کے لئے کوئی دوسرا محکمۂ تعلیم ہے۔ دیہاتوں میں اساتذہ کی زبوں حالی اور تعلیمی دشواریوں کو کمال طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ قوموں کی زندگی میں سب سے زیادہ اہم پہلو تعلیم ہے۔ ماجد نے 85فیصد عوام کی تعلیمی دشواریوں کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ ’’صورت احوال آنکہ‘‘ کے بارے میں کرنل محمد خان کا تبصرہ بہت جامع اور مکمل ہے۔ مجھے صرف اتنا کہنا ہے کہ ہم تو یہی سنتے آئے تھے کہ مصلحت کے طور پر جھوٹ بھی بولا جا سکتا ہے لیکن کتاب پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ سچ بولنے میں زیادہ مصلحت ہوتی ہے۔ لہذا جھوٹ کاہے کو بولا جائے۔ 

Advertisements