پوچھتا ہے میں کتنے پانی میں ہوں

انور مسعود

عاشق حسین ولد محمد خان عرف ماجد صدّیقی آج کل ادب کے میدان میں بڑی حیرت ناک بیٹنگ کا مظاہرہ کر رہا ہے۔  ۱۹۶۴ سے ۱۹۶۶ء  تک اس نے پنجابی شاعری کی بڑے طمطراق کے ساتھ صرف دو رنزیں بنائی تھیں ’’وِتھاں ناپدے ہتھ‘‘ اور ’’سُونہاں لیندی اکھ‘‘ اس کے فوراً بعد اس نے اردو اور پنجابی کا ملا جلا چوکا دے مارا۔ ’’چار کتابیں‘‘ …… یہ چوکا مار کے …… ’’یہ انسان‘‘ …… کچھ ایسا Warm up ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک اور لہر میں ’’ہوا کے تخت‘‘ پر سوار ہو گیا اور ’’صورت احوال آنکہ‘‘ کی صورت میں کرنل محمد خان سٹائل میں اپنی آپ بیتی سنانے لگ پڑا۔

لوگ باگ یہ سوچ کراپنے اپنے دھیان میں مگن ہو بیٹھے کہ اب یہ اپنی آپ بیتی سنا بیٹھا ہے خاموش ہو رہے گا مگر اس بات کا علم کسی کو بھی نہیں تھا کہ اسی تاؤ میں وہ پنجابی کا چھکا بھی دے مارے گا۔ پوری چھ کتابیں بلکہ بقول ضمیر جعفری کتابوں کی والدہ ماجد …… ۸۷۹۱ء میں اس کا سکور دیکھ کر اس دعا کے ساتھ کہ رب سائیں اس کی عمر دراز کرے بڑے وثوق سے یہ پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ یہ ادبی کرکٹر حالیہ صدی کے اختتام سے پہلے پہلے اپنی سنچری مکمل کر کے رہے گا۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ چھکا مارنے کے بعد اب پوچھتا یہ ہے…… ’’میں کتنے پانی میں ہوں‘‘ 

ماجِد صِدّیقی نے جب مجھے یہ کتاب بطور تحفہ دی تو میں نے اسے ہنستے ہنستے کہا :

I shall see in how much water you are

اور میں اتنا سا اقرار کر کے اس کے قابو میں آ گیا۔ 

ماجد کی یہ کتاب پڑھتے پڑھتے میں ایک عجیب سی بات کے کھوج میں لگ گیا میں سوچنے یہ لگ پڑا کہ ماجد بچپن میں کھیل کون کون سے کھیلتا رہا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا کہ بچپنے کے دنوں میں اس نے وہ کھیل ضرور کھیلا ہو گا جو اس گیت سے شروع ہوتا ہے۔

ہرا سمندر ‘ گوپی چندر
بول میری مچھلی کتنا پانی

ویسے ماجِد صِدّیقی کی جانب سے یہ سوال ہے بڑا مشکل اس لئے کہ میں نے اس میں ایک عجیب عادت دیکھتی ہے وہ بھول بھلیوں میں بہت ڈالتا ہے مگر پلے کچھ نہیں پڑنے دیتا۔ اپنی باتوں کو… گونگے دیاں رمزاں… کہتا ہے… آنسو بھی روکے رکھتا ہے اور ہنسی بھی ہونٹوں سے اترنے نہیں دیتا آدمی اندر کی بات سوچتا ہی رہ جاتا ہے یہیں سے مجھے یہ شک ہوتا ہے کہ وہ آنکھ مچولی جیسا کھیل بھی بہت زیادہ کھیلتا رہا ہے شاید اسی وجہ سے چھپ چھپ جانے کا رسیا ہو چلا ہے یہ بات میں اپنی جانب سے نہیں کہہ رہا ہوں یہ بات اسی سے پوچھئے؎

پیڑ نوں منیے پیڑ نہ اکا منکر بنیے دُکھاں دے
ماجد ہے ایہو اِک رستہ سُکھ دے گھر نوں جاون دا

اسی سلسلے میں اور سنیئے؎

دُکھ وی میرے سُکھ وی میرے رونواں بھاویں ہساں
لکھ سیئاں دی اکو گل اے دل دا بھید نہ دساں

عادت کی بات اور ہے ویسے اسے کپاس کے پھولوں کی طرح کھلنے کی بے حد امنگ رہتی ہے؎

کدے تے شاید سوچاں دی ایہہ وڈکی پِچّھا چھڈے
الہڑ کڑیاں وانگر شاید کدے تے کُھل کے ہساں

ماجد کے اس شرمیلے پن سے مجھے یہ خیال آتا ہے کہ وہ جو پوچھتا ہے میں کتنے پانی میں ہوں کہیں کوئی اور بات تو نہیں کہیں وہ آگ ہی کو تو پانی نہیں کہہ رہا ہے لیجئے پکڑا گیا؎

قصے نئیں ایہہ چھیڑن جوگے گلاں نئیں ایہہ کہن دیاں
آپوں جگ وچ کھنڈسن ساڈیاں گلاں اگ اچ ڈیہن دیاں

اور اندر کی بات بھی یہی ہے وہ تو اپنے جلتے زخموں کو بجھانے کے لئے پانی میں اترا دکھائی دیتا ہے۔

میں جب ساتویں جماعت میںپڑھتا تھا تو ہمارے سائنس ماسٹر جی نے بتایا کہ مادہ ہمیشہ تین حالتوں میں دیکھا جا سکتا ہے ٹھوس مائع یا گیس۔ اور ان تینوں کی مکمل مثال انہوں نے وہ دی جو کبھی بھولنے والی نہیں ہے انہوں نے کہا آپ لوگوں نے حقہ دیکھا ہے حقہ بجائے خود ٹھوس ہے اس میں پڑا ہوا پانی مائع اور اس کی نَے سے نکلتا ہوا دھواں گیس ہے یہ حقہ بھی عجیب چیز ہے آگ ہی آگ ، پانی ہی پانی، دھواں ہی دھواں۔

ماجد کی شاعری میں یہ تینوں چیزیں تھوک کے حساب سے پائیجاتی ہیںآہیں بھی آنسو بھی اور وہ جلن بھی جو آس پاس کے مناظر اسے بخشتے ہیں۔ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کے بادل رکے کھڑے ہیں سانسوں میں دھوئیں کی آلائش اور دل کی جھولی میں کسی شہاب کے جلتے دہکتے ٹکڑے وہ اپنی ایک نظم شاعر میں کہتا ہے۔

ایہو نئیں
لکھاں نیں کڑھانے میری سوچ دے
نال جیہڑے کالکاں دے متھا میرا پوچدے
اگاں مینوں لاوندے
تے نت مینوں ساڑ دے
سوچ دیاں سولیاں تے نت مینوں چاہڑ دے

اسی آگ کا کھوج لگاتے لگاتے مجھ پر ایک اور انکشاف ہوا اور وہ یہ کہ ماجد کسی زمانے میں پتنگ بھی اڑاتا رہا ہے اس نے کسی سے پیچا لڑایا اور اس کی پتنگ آدھے آسمان تک پہنچ کر اسکے پیروں میں آ پڑی اور پھر تنہائی کے گرم ہیولوں میں وہ اسی بسنت بہار کو یاد کرتا رہ گیا۔ جس طرح کوئی ایک ہی آنسو میں دل کا سارا حال کہہ جاتا ہے ماجد نے بالکل اسی طرح ایک ہی مصرعے میں اس پوری ٹریجڈی کو مصور کر دیا ہے اور تصویر بھی کچے دھاگے ہی سے بنائی ہے۔

پیار دی دیوی ستی سوں گئی چرخے رہ گئی تند

اور اس کے بعد ماجد نے وہ بسنتی حاشیے والی تصویر مینٹل پیس سے اتار لی اور اس کی جگہ اپنی تصویر سجا دی اور اسی دُکھی تصویر کی انلارج مینٹ Enlargement سے اسکے اس ایک درد کے ساتھ اور بھی کئی درد جاگ اُٹھے اور پھر اس نے دل کا دروازہ کھول کرساری دنیا کے غموں سے کہا ’’آ جائیے یہاں داخلہ فری ہے ‘‘ اور پھر ماجد کی ذات کی اکائی بڑے دردناک نالوں کی صورت میں پھیلتی چلی گئی۔

’‘’یہ قسمت کا چکر بھی کیا ہے…… جو سوتیلی ماؤں کی طرح کسی کے لئے تو گھی میں گندھی ہوئی روٹیاں ڈھانپ کر رکھتی ہے اور کسی کسی کو توے کی کھرچن پر ہی ٹرخا دیتی ہے۔‘‘

’’لمبی بانہوں والے دودھ پر سے بالائیاں اتار لے جاتے ہیں مگر کوتاہ دست لسی تک کو ترستے رہ جاتے ہیں۔‘‘

’’اگر آشاؤں کو پورا نہیں ہونا ہوتا تو وہ پیدا ہی کیوں ہوتی ہیں۔‘‘

’’آدمی پر وہ کچھ کیوں بیت جاتی ہے جسے وہ اپنی زبان تک پہ نہیں لا سکتا۔‘‘

لمی سڑک تے آل دولے بھرے بھراتے رکھ
بس دے اندر اکرے ہوئے کئی قسماں دے مکھ
بس دے شیشے اندر لشکے دوں اکھیاں دا سکھ
بس دے ٹکٹ تے لکھیا ہو یا مونہوں گنگا دکھ

ماجد کی شاعری کا ایک اور بڑا موضوع وہ ملازمت پیشہ لوگ ہیں جن بے چاروں نے محکمہ تعلیم کا دامن تھام رکھا ہے اور جنہیں جابجا قوم کا معمار کہا جاتا ہے اور جن کے پارچات کی مرمت کرتے ہوئے رفوگر اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ وہ بخیہ کہاں لگائے اور ٹکڑا ٹاکی کہاں لگائے۔ جن سے چاند کی تاریخ پوچھی جائے تو جواب یہی ملتی ہے کہ چاند کی رات چودھویں اور فاقوں کی رات پندرھویں ہے۔

ماجِد صِدّیقی نے ہم ایسے کوتاہ دستوں کی کوتاہ نصیبوں کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کرب کے اس پودے سے اس نظم کی شاخ بھی پھوٹ پڑی ہے جس میں وہ منڈیر پر بیٹھے کوے کی آواز سن کر سہم جاتا ہے اور یہ سوچنے لگ پڑتا ہے۔

اسی طرح کی سوچوں کی تان ماجد نے خاص طور پر اس نظم سے اٹھائی ہے جس کا عنوان ہے ’’رکھاں دے تھلے‘‘ پروفیسر ماجِد صِدّیقی کی اس نظم سے پروفیسر مرہن سنگھ کی نظم ’’امبی دا بوٹا‘‘ یاد آنے لگتی ہے اور جس چیز کے حوالے سے کوئی اچھی چیز یاد آئے اسکے اچھا ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے اس نظم میں ماجد نے اسی مضمون کو بڑے خلوص سے پالا پوسا ہے ۔ مراد یہ کہ ’’جب زندگی کی چلچلاتی دھوپ امید کے چشموں کو چوستے چوستے ریت بنا دے اور آدمی کا کوئی بس نہ چلے تو وہ ماسوا اس کے کیا کر سکتا ہے کہ وہ خود ہی اپنا دل جلائے اس سے حرارت حاصل کرے۔ اور سانسوں کی آسودگی کی خاطر اپنے زخموں سے اپنی نظریں ہٹا لے۔ کالج کے ایک افسر کے پلے بندھی ہوئی سماجی مسابقت کی رسوائیوں سے دو چار ایک خاتون کی طویل سوچ کا مقطع ملاحظہ ہو۔

دُھر سوچ نکمی نوں
کس ویہنے وَیہہ گئی اے
میں کڑی ندانی نوں
ایہہ کیہہ کجھ کہہ گئی اے
بیتیاں ہوئاں رُتاں دا
رونا وی کیہ رونا
پیٹھی ہوئی چکی دا
جھونا وی کیہ جھونا
انی وچ رڑ کے دا
چھونا وی کیہ چھونا
میں رُڑھ پَڑھ جانی نوں۔ خورے کیہ ہویا اے
تک مڑ ھکا متھے توں۔ کھاڈی تک چویا اے
جُگ جیوے سوہنا اوہ
جس ٹور لیا ندا اے
اگ لگے جیوڑے نوں
کیہ او نسیاں پاندا اے
دُھر سوچ نکمی نوںکس وَیہنے ویہہ گئی اے
میں کُڑی ندانی نوں
ایہہ کیہ کجھ کہہ گئی اے

زمانہ جیسے جیسے اپنے کیلنڈر کے ورق الٹتا گیا ماجد کے دکھ درد اسی قدر تہہ دار ہوتے گئے خاص طور پر مادرِ وطن کی‘ دیہاتی معاشرت کی دیواروں میں جو جو دراڑیں پڑی ہیں ماجد سے وہ دراڑیں ایک آنکھ بھی دیکھی نہیں جاتیں ایک ہی خاندان میںیا تو لڑکے زیادہ پڑھ گئے ہیں یا پھر لڑکیاں اور ان یک طرفہ ڈگریوں نے دلوں کے درمیان جو فاصلے بڑھا دئیے ہیں ماجد ان ہی پر کڑھتا رہتا ہے۔ اس نے کہانی کے انداز میں جو بہت ساری نظمیں لکھی ہیں ان کا حقیقی اور بڑا موضوع یہی ہے کہ کسی بھی سطح پر انسانوں کے باہمی تعلقات کی بنیاد اخلاقی نہیں رہی۔ تجارتی بن گئی ہے اور اس طرح کے سردمہری اور بے قدری کے موسموں میں آدمی کی شخصیت کس قدر سکڑنے لگی ہے اس کا احوال بھی ماجد ہی سے پوچھئے۔

کل دے ساہ اج گروی رکھ کے
پچھلے بھار چکا واں
اتوں تن تے پوچے پھیراں
وچوں کُھر دا جاوں
اکیہڑے کم دا
کس دے کم دا
میں کُب نکلی کچی کندھ دا
بے تھا نواں پرچھا نواں

مشینی اور مصنوعی معاشرے سے ماجد بے حد بیزار دکھائی دیتا ہے وہ ٹکُر ٹُکر دیکھ رہا ہے زمانے کو کیا ہو گیا ہے مائیں روتے بسورتے بچوں کے منہ میں چُوسنیاں ڈال کر میک اپ کرنے میں لگی ہیں۔ خلق خدا کو جانے کیا ہو گیا ہے چاہے کوئی تڑپ ہی کیوں نہ رہا ہو اگر پوچھا جائے تو یہی کہے گا All is O.K مشاعروں میں بھی ماجد اس خوش گمانی سے شرکت کرتا ہے کہ

ایتکی تے پُترا کرایہ وی نئیں لبھناں

نئے فیشنوں سے بھی اس کی بن نہیں آتی تاہم خود نثری نظمیں لکھنے لگا ہے میں اس بارے میں اس لئے کچھ نہیں کہہ سکتا کہ ذاتی طور پر نثری نظم سے میرا کبھی سمجھوتہ نہیںہو سکتا۔ اس سلسلے میں اپنے تاثر کو غالب کے ایک مصرعے کی تضمین کرتے ہوئے صرف اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ؎

اب نہیں فکر ِ ردیف و بحرو وزن و قافیہ
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

میرا خیال یہ ہے کہ موسیقی کا وجود شاعری کے حق میں ایک آفاقی نصر ہے یہ ایک ایسا Shade ہے جسے ساری دنیا سمجھ لیتی ہے اور اگر یہی Shade پھیکا پڑ جائے تو شعر دوسروں کو اتنا متاثر نہیں کرتا جتنا متاثر وہ خود ہو جاتا ہے۔ بات سے بات نکل آتی ہے ابھی نثری نظم اس قدر نہیں لکھی گئی جس قدر اس پر تنقید لکھی گئی ہے۔ اوراس تنقید کا حال بھی اس حکایت جیسا ہے۔

’’کہتے ہیں کسی کے گھر میں چور گھس آیا گھر والا جاگ پڑا چور بھاگا تو گھر والا بھی اس کے پیچھے پیچھے اتنی تیزی سے دوڑا کہ اس سے آگے نکل گیا اور چور سے کہنے لگا مجھ سے شرطیں بدتا ہے جا اب چلا جا میرا مقصد یہی تھا کہ میں تجھے ہرا ڈالوں‘‘ ایسی ہی صورت اس تنقید کی ہے جو تخلیق سے بھی چار قدم آگے نکل چکی ہے۔ بہرحال اس صنفِ سخن کے بارے میں چونکہ میں جانبدارانہ خیالات نہیں رکھتا لہٰذا مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ میں ماجِد صِدّیقی کی نثری نظموں کے بارے میں کسی رائے کا اظہار کروں ویسے بھی ماجد کے فکر و خیال کا پھیلاؤ کچھ ایسا ہے کہ اکیلے دم مجھ سے سنبھالا نہیں جا رہا۔

اس مجموعے میں ایک بڑی توجہ طلب بات یہ ہے کہ ’’میں کنے پانی وچ آں‘‘ ماجد صدّیقی کی ایک چھوٹی سی نظم کا عنوان ہے اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ ماجد نے اس نظم کے عنوان کو اپنے پورے پنجابی کلام کا عنوان کیوں ٹھہرا دیا ہے مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے اس نظم میں اس نے اپنی کمٹمینٹ کا اظہار کیا ہو۔ نظم کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’آدمی کتنے پانی میں ہو سکتا ہے جب وہ جگہ جگہ ٹکریں مارتا ہے تھک جاتا ہے اور اسے کوئی بھی مقام پناہ نہیں دیتا تو خدا ہی کا ایک دروازہ اس کا سہارا بنتا ہے‘‘ 

یہ نظم اگر کچھ طویل ہوتی تو شاید یہ بھی پتہ چلتا کہ ماجد کن الٹی سیدھی راہوں میں کھویا رہا ہے کون کون سے دروازے کھٹکھٹاتا رہا ہے اگر وہ اپنے پانی کے درجے کو ناپ نہ لیتا تو ماجِد صِدّیقی اپنے امراض کی تشخیص کر کے اپنے لئے کوئی فیشن ایبل دوا بھی تجویز کر سکتا تھا جس کے Effects تھوڑے اور Side effects یا After effects زیادہ ہوتے ہیں۔ مگر اسے سینے کی جلن اور آنکھوں کی چبھن کے لئے جو اکسیر نسخہ ملا ہے وہ ایکسرے کی شعاعیں نہیں غار ِحرا کی روشنی ہے۔

غار حرا دی
ایس دھرتی دا ہتھ دعا دا
جیہڑا اٹھیا تے فیر کدی نہ نیواں ہو یا
غار حرا دی
نور پھہاراں لے کے آئی
جیو دیاں ٹھنڈ کاں
روح دیاں ٹھاراں لے کے آئی

ماجد نے اپنی طنزیہ و مزاحیہ نظموں کا انتساب میرے نام کر رکھا ہے آپ ہی کہیں میں اس باب میں کیا کہہ سکتا ہوں ویسے بھی مجھے نقاد ہونے کا ہرگز کوئی دعویٰ نہیں اسی لئے تو میں اسے ایک ایسے نقاد کے سپرد کر رہا ہوں جو سب سب بڑا نقاد ہے اور اس کا نام ہے۔ ’’زمانہ‘‘