ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 206
ہم ثمردار نہیں لائقِ توقیر نہیں
ہم ہیںِ معزول شہوں جیسے فقط پِیر نہیں
سَو ہیں گر ہم تو ہیں ہم میں سے فقط بیس نہال
کون ہے اپنے یہاں آج’ جو دلگیر نہیں
موج’ دریا سے ہے از خود ہی اُچھلتی آئی
پیش دستی میں ہماری کوئی تقصیر نہیں
جس نے بھی لاکھوں کروڑوں سے بڑھا لی پونجی
نام پر اُس کے یہاں کوئی بھی تعزیر نہیں
یاترا جو بھی کسی پینچ نگر کی کر لے
وہ زَبر ٹھہرے ہمیشہ کے لیے’ زِیر نہیں
پست سے جو بھی زروزور سے بالا ٹھہرا
سابقہ اُس کی جو تھی حال کی تصویر نہیں
جو رقابت سے چڑھے دار پہ ماجد صاحب
نام جو اُس کے لگے’ اُس کی وہ تقصیر نہیں
ماجد صدیقی
Advertisements