سکندر خارکش! تُو ہانٹ کرتا ہے مجھے اَب بھی

کہ تُو نے ہی مجھے پہلے پہل ذوقِ نظر بخشا

وُہ منظر آنکھ میں اُترا ہو جیسے کنکری جیسا

منادی کی صدا پر ایک ہلچل تھی ہر اک جانب

بہت سے لوگ تھے پنڈال میں اور محتسب بھی تھا

اُسی پنڈال میں تُو تھا، وہیں مَیں بھی تھا بچّہ سا

اور اس پنڈال کی تقریب میں ایمان تُلنے تھے

کنارِ میز تھا رکھا گیا قرآن کا نسخہ

حلف یہ تھا کہ آزادی کا مژدہ سُن کے ہم سب نے

گھروں سے دشمنوں کے وہ کہ تھا مالِ غنیمت جو

بہ صدقِ دل چھوا تک بھی نہ تھا اور اب سرِمیداں

قسم کھا کر یہ کہنا تھاکہ دامن صاف ہے اپنا

ہوا تقریب کا آغاز تو اک چودھری آ کر

لگا کہنے

’’کہو مَیں نے بھی کیا وہ مال ہتھیایا

کہو کس نے مجھے آنکھوں سے دیکھا یہ خطا کرتے، ،

اور اس پر

وُہ جو کمتر تھے سبھی مل کر لگے کہنے

’’نہیں صاحب نہیں، کب آپ ایسا کام کرتے ہیں

وُہ جھوٹے ہیں وہ کاذِب ہیں جو یہ اِلزام دھرتے ہیں، ،

یہی کچھ جس قدر تھے چودھری سب نے کہا آ کر

مگر جب تو اٹھا باری پہ اپنی اور تُو نے بھی

وہی الفاظ دہرائے کہے ہر چودھری نے جو

تو تیری پُشت پر آ کر وہ ضربِ محتسب برسی

ترا سر جا کے پٹخا میز پر اور میخ لوہے کی

ترے ماتھے سے فوّارہ ساخُوں کا اِک بہا لائی

بڑی مشکل سے تو نے ہاتھ میں قرآن کو تھاما

اُسے سر پر اُٹھایااو بہ صدقِ دل کہا تُو نے

’’قسم اِس کے تقدس کی، قسم اولاد و ایماں کی

چھوا تک بھی نہیں میں نے کہیں مالِ غنیمت کو، ،

ترے ہونٹوں پہ تھے یہ لفظ اور میری نگاہوں میں

نجانے بچپنے میں ہی جِلا کیا عود کر آئی

مرا خوں کھول اُٹّھا اور اُٹَھا اک حشر سا جاں میں

مری وہ آنکھ جس نے تجھ کو دیکھا تھا اُس عالم میں

بہ زورِ ضرب جیسے ایک ہی لمحے میں بھر آئی

کہ تو کمتر تھا اور تجھ کو صفائی کمتروں کی بھی

بچا سکتی بھلا اُس روزکی تذلیل سے کیسے

کہ اس تقریب میں موجود تھا جو نسخۂ اولیٰ

کسی نے تو اسے ہاتھوں سے سر پر بھی اُٹھانا تھا

اور اُن سب میں یہ تُو تھا جس کی باری سب سے پہلے تھی

وہ دن اور آج کا دن میں نہیں تجھ کو بھلا پایا

سکندر خارکش! تو ہانٹ کرتا ہے مجھے اَب بھی

کہ اب بھی ہر کہیں آنکھوں میں ہیں میری وہی منظر

جہاں پنڈال میں ایمان تُلنے کی ہیں تقریبیں

کوئی میدان ہو جس میں وفا کا ہو حلف کوئی

کوئی بھی فیصلے یا عدل کی تقریب ہو اُس میں

مری تخئیل کو میزاں کے دو پلڑے دکھائی دیں

وہ پلڑے جن میں اک وہ ہے کہ

جس میں تُو ہے اور میں بھی

(وہ تو جس کا کوئی بھی قول ہو حرفِ غلط ٹھہرے

یہ میں جس کی کوئی بھی بات ہو وُہ جھاگ جیسی ہے)

اور اس میزاں کا اک پلڑا ہے وہ

جو خاص ہے اب بھی

فقط اُن کے لئے جو مقتدر اور زور آور ہیں

وہی پلڑا کہ جس میں چودھری جو بھی صفائی دے

صفائی پر نہ اُس کی، فردِ واحد بھی دُہائی دے

یہی سب سے جداگانہ کمال اُس چودھری کا ہے

کہ وہ پنڈال میں آتے نظر میں طنطنہ لاتے

بڑے ہی طمطراق اور زعم سے آ کر لگے کہنے

’’کہو میں نے بھی ہے کیا شہر میں کچھ مال ہتھیایا

کہو کس نے مجھے آنکھوں سے دیکھا یہ خطا کرتے، ،

اور اس پر

وہ جو کمتر ہیں (وہ جن میں تُوبھی ہے میں بھی)

بصد عجز و جبیں سائی سبھی مل کرلگیں کہنے

’’نہیں صاحب، نہیں کب آپ ایسا کام کرتے ہیں

وُہ جھوٹے ہیں وہ کاذب ہیں جو یہ الزام دھرتے ہیں، ،

سکندر خارکش! تو ہانٹ کرتا ہے مجھے اَب بھی

ماجد صدیقی
Advertisements