ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 175
ماجد کا پُوچھتے ہو ؟گُنوں میں جو فرد تھا
حق بِین و حق شناس تھا میداں کا مرد تھا
لکھنے لگا تھا کربِ شجر کی حکائتیں
برگانِ سبز میں جو کوئی کوئی زرد تھا
ہم بھی دبک چلے تھے نہ کیا کیا بکنجِ ذات
موسم نگاہِ یار کا جس دن سے سرد تھا
شاید اِسی سبب سے اُسے آئے ہم بھی بیچ
وہ کارنر مکان کہ جو صیدِ گرد تھا
لوگوں کے پیٹ کاٹ کے و ہ ایٹمی ہوئے
جن جن کو اہلِ زور سے شوقِ نبرد تھا
نکلا ہوا تھا جیسے برسنے بہ کشتِ سبز
ہم عاشقوں ساابر بھی صحرا نورد تھا
تعمیرِ ذات کو اُسے درکار تھا یہ گُن
حاکم کو کب عوام کے بچّوں کا دردتھا
ماجد صدیقی
Advertisements