ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 191
اہلِ دل اہلِ نظر اہلِ ہُنر ہونے تک
بِیج کو وقت ہے درکار شجر ہونے تک
پوچھنا چاہو تو اربابِ طرب سے پوچھو
کیا سے کیا چاہیے سُرخاب کا پر ہونے تک
معتقد قیس کے فرہاد کے ہوکر دیکھو
اپنے قدموں میں سجنوا کا نگر ہونے تک
سینہ زوری کوئی برتے کوئی سٹہ بازی
کیا سے کیا منزلیں ہیں صاحبِ زر ہونے تک
یہ تو شاہین ہی جانیں کہ ہے کب تک ممکن
فاختاؤں کا سفر لقمۂ تر ہونے تک
قربِ جاناں کا ہے محدود میّسر آنا
دل کے جل اُٹھنے تلک، آنکھ کے تر ہونے تک
یہ تو ماجد ہی بتائے گا ہے کتنی کتنی
موت سے دست و گریبانی اَمَرہونے تک
ماجد صدیقی
Advertisements