ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
حکم پہ پینچوں کے یک دم بے گھر ہونا
یادآئے محکوم کا دیہہ بدر ہونا
سنتے ہیں خُو بُومیں لگے فرعونی سا
صاحبِ رقبہ ہونا، صاحبِ زر ہونا
عمرِ اخیر میں یوں بھی دیکھنا پڑتا ہے
جسم و جسامت کا ویران شجرہونا
ہر مجہول ہمیں ہی دھر لے جاتا ہے
عیب جو ہے تو ہمارا اہلِ ہنر ہونا
کوئی نہ مجھ سا پِٹ جائے، وہ خاک کہے
جس کا نصیبہ ٹھہرے راہ گزر ہونا
سچ پوچھیں تو بادشہی سے کم تو نہیں
آج کے دورِگراں میں اپنا گھر ہونا
ویسے بھلے ماجدہو ہمِیں سا، پہ اندر سے
صاحبِتاج کو چاہیے پیغمبر ہونا
ماجد صدیقی
Advertisements