ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
بڑے بھی ہیں تو فقط وہم میں گمان میں ہم
ہزار نیک سہی کم ہیں پر جہان میں ہم
توہمات، تمنّائیں اور بے عملی
بسائے رکھتے ہیں کیا کیا یہ قلب و جان میں ہم
پھر اُس کے بعد تھکن اور خواب خرگوشی
دکھائیں تیزیاں کیا کیا نہ ہر اُٹھان میں ہم
نظر میں رکھیے گا صاحب ہمارے تیور بھی
بہت ہی رکھتے ہیں شیرینیاں زبان میں ہم
یہ ہم کہ سبز جزیرہ ہیں بیچ دریا کے
ہیں کتنے سیربس اِتنی سی آن بان میں ہم
کوئی نہیں جو ہم میں سے اتنا سوچ سکے
تنے ہوئے ہیں ہمہ وقت کیوں کمان میں ہم
سخن میں صنفِ غزل جس کا نام ہے ماجد
ہیں محو و مست اِسی اِک سریلی تان میں ہم
ماجد صدیقی
Advertisements