ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 129
سانس ہی سینے کے اندر جانے کب دشنہ بنے
کون سا لمحہ نجانے آخری لمحہ بنے
اپنے ہاں تاریخ میں ایسا ہوا اکثر کہ جب
ظلم کے ہاتھوں سروں سے کٹ کے سر، تحفہ بنے
ہٹ کے اس سے ہو چلیں کیوں ماہیٔ بیرونِ آب
ہم کہ جس ماحول کا بچپن سے ہیں حصہ بنے
مظہرِ شوق شگفتہ شہریوں کا جانیے
جا بجا سڑکوں پہ جو خودساختہ رخنہ بنے
سخت رسوا عدل کا نعرہ وہ ہے اپنے یہاں
ہر نئے رہبر کا جو کچھ دن نیا شوشہ بنے
دوسرا غاصب جو برتے پہلے غاصب کے لیے
تخت سے نکلا وہ تختہ دار کا تختہ بنے
جو غزل بھی کہہ وہ ماجد کہہ کچھ اس انداز سے
بہر یاور دیس سے دوری کا جو تحفہ بنے
ماجد صدیقی
Advertisements