ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 90
کالا پانی بھیجنے والے پھر کیوں جھانکنے آئے ہیں
چٹی چمڑی والے پھر کیوں ہمیں سدھانے آئے ہیں
کتنی نسلیں، کتنے رقبے گروی ٹھہرے اُن کے عوض
نام جو اپنوں کے ہیں پر، وہ باہر کے سرمائے ہیں
جنگ زدہ خطّوں کے اندر کے احوال بتائے کون؟
کن کن دوشیزاؤں نے جبراً پہلو گرمائے ہیں
تند سخن سنتے سنتے حیلہ یہ بدن نے کیا شاید
عمرِ اخیر تلک پہنچے تو ہم بہرے کہلائے ہیں
ایسے بادل کھیتوں، بگھیاؤں پر کیسے برسیں گے
یہ جوگَرد بگولے صحراؤں پر آ کر چھائے ہیں
نقش نجانے کیا کیا دل کے سب اوراق پہ چھوڑ گئے
وہ چہرے جو گاہے گاہے اپنے من کو بھائے ہیں
رِیت روایت چھوڑ کے جنکا ذکر ہے غیروں تک نے کیا
زخم نہ کیا کیااپنوں تک سے ماجد ہم نے کھائے ہیں
دوہزاردس کے دوران ایک سیاسی فیصلے پر
ماجد صدیقی
Advertisements