ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
عزم ہے یہ، دُکھ جتنا دیکھیں
پیر کبھی نہ اکھڑتا دیکھیں
رحم کریں اُس پر اُتنا ہی
جتنا جس کو سفلہ دیکھیں
گانٹھیں ساتھ تنے کے ایکا
جب بھی پیڑ اُکھڑتا دیکھیں
اگلا مطلع دھیان میں رکھیں
سورج جب جب ڈھلتا دیکھیں
کم دیکھا ہے جو کچھ دیکھا
اور نہ جانے کیا کیا دیکھیں
ماجدچال میں ٹیڑھ نہ آئے
جانبِ منزل سیدھا دیکھیں
ماجد صدیقی
Advertisements