ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 83
میرا ماضی بنے گاحال کہاں
میرے چَرکوں کا اندمال کہاں
بادلوں نے فلک کو اوڑھ لیا
ہاں سجائی ہے اُس نے شال کہاں
سیر کردے جو عین پِیری میں
اُس نوازش کا احتمال کہاں
محفلیں جن کے نام سجتی تھیں
میروغالب سے ماہ و سال کہاں
تاپ سے دھوپ کے جلی لاگے
سبز پیڑوں کی ڈال ڈال کہاں
لوگ چندا تلک سے ہو آئے
کام کوئی بھی ہو، محال کہاں
اب جو ماجد ہیں ہم بھی چل نکلے
اب ہے پسپائی کا سوال کہاں
ماجد صدیقی
Advertisements