ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
کیا انداز تحکّم ٹھہراجمہوری شہزادوں کا
مدّتِ قید میں چھوٹ کریں اور ناطقہ بند آزادوں کا
دیکھ شعیب اور ثانیہ تک بھی آخر کو جا پہنچا ہے
قحطِ رجال کے دورِ سیہ میں سلسلہ ’’زندہ بادوں” کا
جیون کے شطرنج میں بازی شاہوں کے ہاتھ آتی ہے
ڈٹ جانا اور مارے جانا ٹھہرے کاج پیادوں کا
بیٹا گھر سے نکلا تو بس اتنا اُس سے میں نے کہا
سایہ بھی پڑنے نہیں دینا دل پر تھکے ارادوں کا
کیا کہنے ہیں دیرینہ احباب جہاں بھی مل بیٹھیں
چہروں کے گلدستے ٹھہریں ایک مرقّع یادوں کا
ماجد وقت کے شاہ کو جانے کیوں اتنا ادراک نہیں
اُٹھتی بانہیں بن جائیں مینار نہ پھر فریادوں کا
ماجد صدیقی
Advertisements