ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 92
مستی بوس و کنار کی ہیں یا مَے کے پیالے ہیں
فطرت نے بھی کرشمے کیا ابدان میں ڈھالے ہیں
رقص کناں خوابوں سپنوں کی ٹھہریں فرد مثال
جگنو جگنو اپنی جگہ کچھ اور اُجالے ہیں
پاکستان میں شعر و فسانہ اور بھارت میں رقص
نصف صدی سے ہر دو فن اک ساتھ نرالے ہیں
بابِ عقائد میں معمولی کھوج پہ بھی اکثر
اہلِ نگاہ تلک کے لبوں پر چپ کے تالے ہیں
راہنما بھی تبدیلی کو انہی سے جا کے ملیں
آفت کے پرکالے ہیں جو لڑکے بالے ہیں
لیڈر ہوں تاجر ہوں یا ہوں ریاست کے داماد
کم کم انہیں سراہو وہ سب دیکھے بھالے ہیں
ماجد ہم جو ہمیشہ پِسے ہوؤں کی بات کریں
طنزاً اہل ادب کی نظر میں ہم بھی جیالے ہیں
ماجد صدیقی
Advertisements