ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
جاں بدن میں ہی جلا دی کیا کیا
دل نے پتّوں سی ہوا دی کیا کیا
راہ چلتوں کی توجّہ پانے
زر شگوفوں نے لٹا دی کیا کیا
دیکھ کر پوتیوں پوتوں کی روش
رنج گِنوائے ہے دادی کیا کیا
روز خبروں میں دکھائی جائے
گونجتی مرگِ ارادی کیا کیا
کیا ہُوا ہے ابھی کیا ہونا ہے
وقت کرتا ہے منادی کیا کیا
ابر چھایا تو نشہ سا لاگا
اور خبر رُت نے اُڑا دی کیا کیا
ماجد صدیقی
Advertisements