ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
یہ ہے وہ نسخہ کہ جس میں ہے تری کامل شفا
خود بھی رہ جنبش میں اور پیسہ بھی کچھ جنبش میں لا
حرص میں جنس و پِسَر کے اور وسطِ عمر میں
دیدنی ہیں بچّیوں کے باپ جو کھو دیں حیا
اُن کے ناتے سایۂ قانون کو تم ناپ لو
گاڑیاں جو چھین لیتے ہیں کُھلے میں برملا
اتّحادی سے وزارت چھین کر دو اور کو
تخت والو!بعد میں تم دیکھنا ہوتا ہے کیا
وہ جسے ایکا کہیں، مشکل ہے دو شخصوں کے بیچ
بعد مدّت کے، یہ رازِ خاص ہے، ہم پر کُھلا
آگ تک میں بھی تو اکثر کِھل اُٹھا کرتے ہیں پھول
آبِ رحمت میں بھی ہوتا ہے نہاں سَیلِ بلا
ہنس دیا کرتا رہا ماجد۔۔۔بہ میدانِ عمل
کھا کے کنکر نفر توں کے، اہلِ نفرت سے سدا
ماجد صدیقی
Advertisements