ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
آب مری اور مرے سُراب تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
خواب مرے اور خواب اور خواب، تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
سروِ کِنارِ جُو کا اسیر، میں چشمِ آہو کا اسیر
میرا نشہ اور مری شراب تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
میرے گمان اِنہی جیسے میرے یقین اِنہی جیسے
مجھ پر اُتری نئی کتاب تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
میرے پروں کو دلائیں جِلا دیں یہ مجھے رفتارِ صبا
طُولِ سفر میں یہ مری رکاب تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
اِن میں سحر کا عکس ملے رگ رگ تھر تھر رقص ملے
ہائے ملیں کب کب یہ شتاب تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
یاد دلائیں نئے پن کی سوندھی مہک مٹی جیسی
گِھر گِھرکے آتے یہ سحاب تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
طُرّۂ فن ہیں یہ ماجد کا متنَ سخن ہیں یہ ماجد کا
جنسِ معانی کے ہیں یہ باب تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
ماجد صدیقی
Advertisements