ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 109
پولوشن سے لِتھڑی سانسیں تیری، میری
جانیں خفیہ خفیہ اُجڑیں تیری، میری
جیتے جی سُونے ہیں انگنے ہم دونوں کے
بعد میں سج سکتی ہیں قبریں تیری میری
ذہن میں بچّوں جیسے سپنے پالناچھوڑیں
ڈوب نہ جائیں کاغذی کشتیاں تیری میری
بغض و حسد کے بَیری جھونکے چُوس رہے ہیں
امیدوں کی سجری شاخیں تیری میری
باعثِ کرب و بلا ہرجا اِک سی بدنظمی
چھت چھت آب کو ترسیں ٹینکیاں تیری، میری
آتے دنوں کے کیا کیا زائچے سامنے لائیں
ہاتھوں کی کج مج یہ لکیریں تیری، میری
ہم جھلکیں اُن میں، جھلکے ہیں ہماری نسلیں
شعر ہیں ماجد کے، تصویریں تیری، میری
ماجد صدیقی
Advertisements