ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 98
دنوں مہینوں میں مُکھ دکھلائیں تو دیکھو
بادل کم کم آئیں پہ جب آئیں تو دیکھو
عزم بڑھانے کواپنا، صیّاد پرندے
اُڑنے کو پر اپنے پھیلائیں تو دیکھو
مجرم، اہلِ تخت نہ کیوں ٹھہرائے جائیں
اُن کے زیر نگیں پِٹ پِٹ جائیں تو دیکھو
کورے ورق پر کیا سے کیا لکھا جاتا ہے
جھریاں چہرہ چہرہ پڑ پائیں تو دیکھو
ماجد جیب کھلے بندوں، کیسے کٹتی ہے
تاجرجب اپنا فن جتلائیں تو دیکھو
ماجد صدیقی
Advertisements