ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
چادریں نُچتی ہیں جن کی اُن کو عریاں اور کر
اے شہِ عاجز! وقارِ خلق ارزاں اور کر
اپنی قامت ناپ اُن کے ساتھ بے وقعت ہیں جو
جو پریشاں حال ہیں اُن کو پریشاں اور کر
کر نمایاں اور بھی ہر دستِ حاجت مند کو
ضعف سے لرزاں ہیں جو وہ ہاتھ لرزاں اور کر
مایۂ خلقت پہ حاتم طائیاں اپنی دِکھا
داغ ناداری کے ماتھوں پر نمایاں اور کر
چھین لے فریاد کی نم بھی لبوں کی شاخ سے
نیم جاں ہیں جس قدر تُو اُن کو بے جاں اور کر
گھیر کر لا ریوڑوں کو جانب گُرگانِ دشت
مشکلیں اُنکی جو ذی وحشت ہیں آساں اور کر
جتنے ماجد ہیں یہاں گریہ کناں اُن پر برس
چیختے ہرنوں کو جنگل میں ہراساں اور کر
ماجد صدیقی
Advertisements