ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
جی سے جانے کا اتفاق کہاں
خوں میں وہ جوشِ اشتیاق کہاں
سادہ لوحی میں حضرتِ آدم
طاق ہوں گے پہ ہم سے طاق کہاں
ہم کہ یک جہتیوں کے داعی ہیں
خلق میں ہم سا ہے نفاق کہاں
آئنے میں ذرا سا بال آیا
بات گزری ہے دل پہ شاق کہاں
کیا خبر کہہ کے ناخلف ماجدؔ
وقت کر دے ہمیں بھی عاق کہاں
ماجد صدیقی
Advertisements