ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
دی نہیں کرب سے رہائی مجھے
اور معالج بہم عطائی مجھے
ہاں وہی تو ہے حیثیت میری
تھی جو ابلس نے سُجھائی مجھے
ابنِ آدم ہوں مَیں صدف تو نہیں
رزق بخشا ہے کیوں ہوائی مجھے
اُس خدا تک کا میں ہوا منکر
جس نے دی خلق پر خدائی مجھے
گھر کے بد خصلتوں میں بھی ماجِد!
کرنی آئی نہیں بُرائی مجھے
ماجد صدیقی
Advertisements