ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 74
مظہر ہے بربادی کا
موسم پیار کی وادی کا
تھامیں پیٹ کی پوجا کو
دامن ہم کس ہادی کا
لو پھر بستی سہم گئی
سُن کر ڈھول منادی کا
اِک اِک سُوکھا پیڑ لگے
ہاتھ کسی فریادی کا
حرفِ دُعا کب ہوتا ہے
بول کسی شہزادی کا
ماجدؔ اک اک لفظ تِرا
پرچم ہے آزادی کا
ماجد صدیقی
Advertisements