ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
جب بھی موسم ذرا سا نکھرنے لگا
رنج سا اِک نظر میں اُبھرنے لگا
آنکھ میں پھر کسی یاد کا عکس ہے
چاند ہے جھیل میں پھر اُترنے لگا
ہم اُسے کس طرح معتبر جان لیں
بات تک سے جو اپنی مُکرنے لگا
وحشتوں کی سکڑتی حدیں دیکھ کر
شیر پنجرے میں از خود سدھرنے لگا
آئنے پر جو دل کے لگے بال سا
زخم ماجدؔ کہاں ہے وُہ بھرنے لگا
ماجد صدیقی
Advertisements