ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
جگنو سے سرِمژگاں دہکا کے سحر کرنا
بچّوں سا ہمیں آئے اظہارِ ہُنر کرنا
کوندا سا دلا دینا آنکھوں کی چمک جیسا
ہونٹوں کو تبّسم سے ہمرنگِ شرر کرنا
جاں ہو کہ خیالوں کی بے نام سی بستی وُہ
تم زیرِ نگیں اپنے اِک ایک نگر کرنا
کر ڈالیں تمنّا کو دل ہی سے الگ، لیکن
شاہوں سا ہمیں آئے کب شہر بدر کرنا
ہیں جتنی خراشیں بھی دی ہیں یہ اِسے کس نے
اِس شیشۂ دل پر بھی بھولے سے نظر کرنا
ہم لوگ ہیں وُہ ماجدؔ بالائے زمیں جِن کے
لِکھا ہے نصیبوں میں کولہو کا سفر کرنا
ماجد صدیقی
Advertisements