ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
دینے لگا ہے یہ بھی تأثر کمان کا
کیا کیا سلوک ہم سے نہیں آسمان کا
اُس کو کہ جس کے پہلوئے اَیواں میں داغ تھا
کیا کیا قلق نہ تھا مرے کچّے مکان کا
دریا میں زورِ آب کا عالم تھا وہ کہ تھا
اِک جیسا جبر موج کا اور بادبان کا
اپنے یہاں وہ کون سا ایسا ہے رہنما
ٹھہرا ہو جس کا ذِکر نہ چھالا زباں کا
آخر کو اُس کا جس کے نوالے تھے مِلکِ غیر
رشتہ نہ برقرار رہا جسم و جان کا
چاہے سے راہ سے نہ ہٹے جو نہ کھُر سکے
ماجدؔ ہے سامنا ہمیں ایسی چٹان کا
ماجد صدیقی
Advertisements