ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
باغ پر وقت کیسا یہ آنے لگا سوچنا چاہیے
پھول کیوں شاخ سے ٹوٹ جانے لگا سوچنا چاہیے
وہ کہ جو جھانکتا تھا بہاروں سے بھی چاند تاروں سے بھی
جذبۂ دل وہ کیسے ٹھکانے لگا سوچنا چاہیے
وہ کہ جو بندشوں سے بھی دبتا نہ تھا جو سنبھلتا نہ تھا
پھر وہی کیوں نظر میں سمانے لگا سوچنا چاہیے
ماجد صدیقی
Advertisements