ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
دہشت ہے کہ اضطراب کیا ہے
یہ سہم سا خواب خواب کیا ہے
کھولا ہے یہ راز رہزنوں نے
کمزور کا احتساب کیا ہے
دھرتی یہ فلک سے پُوچھتی ہے
پاس اُس کے اَب اور عذاب کیا ہے
مشکل ہوئی اب تمیز یہ بھی
کیا خُوب ہے اور خراب کیا ہے
کہتے ہیں جو دل میں آئے ماجدؔ!
ایسا بھی ہمیں حجاب کیا ہے
ماجد صدیقی
Advertisements