ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 128
مکّاری کو کیا کیا ہیں کُرتوت ہوئے
ریشم کے لچّھے بھی دیکھو سُوت ہوئے
خواب ہوئیں پریاں جتنی ایقان کی تھیں
واہمے کیا کیا اپنی خاطر بھُوت ہوئے
رہتے ہیں محصور مسلسل ہلچل میں
امیدوں کے شہر بھی ہیں بیروت ہوئے
جب سے باغ میں رسم چلی پیوندوں کی
سیدھے سادے تُوت بھی ہیں شہتوت ہوئے
منکر ہونے پر ماجدؔ بدنام ہمیں
جبر سہا تو ہم اچّھوں کے پُوت ہوئے
ماجد صدیقی
Advertisements