ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 104
عجز مانا کہ بڑا دیدۂ نمناک میں ہے
برق بھی ایک اِسی آب اِسی خاک میں ہے
حرف کب جور پہ اُس کے کوئی آنے دے گا
طنطنہ خَیر سے جو اُس بتِ چالاک میں ہے
وقت شاطر ہے چلا بھی تو چلے گا آخر
چال ایسی جو کسی فہم نہ ادراک میں ہے
عرصۂ کرب و بلا سے سرِ آسامؔرواں
اک عجب چیخ سی اِس گنبدِافلاک میں ہے
کیا کہوں جرم میں اِس زمزمہ پردازی کے
کون سا تیر کمانوں میں مری تاک میں ہے
حق بجانب بھی ٹھہرتا ہے وہی بعدِستم
وصف طرفہ یہ مرے عہد کے سفّاک میں ہے
ڈھلنے پائی نہ نشیمن میں ابھی تک ماجدؔ!
وہ تمنّا کہ سمائی خس و خاشاک میں ہے
ماجد صدیقی
Advertisements