ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
پھر اور سانحہ کوئی ماجدؔ ہُوا ہے کیا
منہ پر ترے یہ قصّۂ کرب و بلا ہے کیا
مرغانِ خوش نوا کی صدا کیوں بدل گئی
دیکھو تو در قفس کا کسی پر کھُلا ہے کیا
داغی تفنگ کس نے پرندوں کے درمیاں
شورش سی پھر یہ صحنِ چمن میں بپا ہے کیا
دیکھو تو سیلِ آب سے اُکھڑے درخت پر
رہ دیکھتا کسی کی کوئی گھونسلا ہے کیا
ملتا ہے اِس سے زخمِ دروں کو لباسِ حرف
تخلیق میں سخن کی وگرنہ دھرا ہے کیا
دھڑکن لہو کی بانگِ جرس ہو گئی ہے کیوں
پلکوں سے قافلہ کوئی ماجدؔ چلا ہے کیا
ماجد صدیقی
Advertisements