ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
اور عنواں ہو کیا فسانے کا
عہد اُس نے کیا نہ آنے کا
ہم نے اُس حُسن کو مقام دیا
ارضِ جاں کے مدھر ترانے کا
کچھ ہِمیں تاک حفظِ جاں میں نہ تھے
علم اُس کو بھی تھا نشانے کا
دھار تلوار کی نگاہ میں ہے
شور سر پر ہے تازیانے کا
وقت خود ہی سُجھانے لگتا ہے
فرق ماجدؔ نئے پرانے کا
ماجد صدیقی
Advertisements