ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
کھیت بھی اور حاصل ہے جسے سرداری بھی
ساتھ نہ دے کیونکر اُس کا پٹواری بھی
خرقہ پوش ہیں شہر کی جو جو شَہراہیں
دُور رہے اُن سے شہ کی اسواری بھی
جس گوشے میں چاہے حرص کا مال سجے
اُس جانب آ جاتے ہیں بیوپاری بھی
ماجد صدیقی
Advertisements