ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
موتی پئے جمال ہنر ڈھونڈنے پڑے
آنکھوں کی سیپیوں میں گہر ڈھونڈنے پڑے
جنگل میں طائروں کی چہک، آہوؤں کا رم
کیا کیا نہ ہمرہانِ سفر ڈھونڈنے پڑے
آئے گا کل کے بعد جو دن، اُس کو پاٹنے
کیا کیا جتن نہ شام و سحر ڈھونڈنے پڑے
اپنے ہی جسم و جان کی پیہم کرید سے
ماجد ہمیں خزائنِ زر ڈھونڈنے پڑے
ماجد صدیقی
Advertisements