ہم ہر فن مولا تو نہیں اور نہ ہی ایسا بننے کی کبھی خواہش کی ہے البتہ آس پاس کے ماحول میں ہمارا ابتدائی تعارف ہوا تو شکول کے دنوں میں ایک ماہیا سرا کی حیثیت سے ہوا، کہ اساتذہ کرام چھٹی کے بعد نہ صرف ہمیں بلکہ کلاس بھر کو روک لیتے اور ہم سے بیک وقت سات علیٰحدہ علیحٰدہ سروں میں ماہیا سنا کرتے جس پر بقول سامعین ہمیں فی الواقع عبور حاصل تھا لیکن جب زندگی کے میدان میں اترے تو اس میدان میں جیسے ہماری سیٹی ہی گم ہو گئی۔

مصّوری یا ڈرائینگ قسم کا شغل ہمیں ازخود ہی نہ لبھا سکا البتہ کتابت میں اتنا لپکا ہمیں ضرور تھا کہ ہم نے دسویں جماعت ہی میں پوری کی پوری بانگ درا کو قدِآدم چارٹوں پر نہ صرف کتابت کیا بلکہ آس پاس بغرض آویختگی انہیں تقسیم بھی کرتے رہے۔

لطیفہ بازی اگر فنونِ لطیفہ میں شامل ہے تو ہم اس فن میں بھی قبل از رسم نکاح خاصے ماہر مانے جاتے تھے لیکن وہ جو فانی نے کہا ہے

منزلِ عشق پہ تنہا پہنچے کوئی تمنا ساتھ نہ تھی

تھک تھک کر اس راہ میں آخر ایک اک ساتھی چھوٹ گیا

ہوتے ہوتے ہمارا خاصا بوجھ ازخود ہی ہلکا ہو گیا اور جو کچھ باقی رہ گیا وہ ایک تو فنِ شعر طرازی تھا

اس کو حرفوں میں ڈھالنے کے لئے

انگلیوں میں قلم لیا کیجئے

اور ایک خفیف سا احساس یہ دامن گیر رہا کہ جہاں ہم ٹیڑھی میڑھی نظموں میں ٹیڑھی میڑھی اور منحنی قسم کی تصویریں الفاظ کی مدد سے کھینچ لیتے ہیں وہاں اگر جذبے کی شدت سلامت ہے تو ہمیں کسی نہ کسی ایسے سراپے کی تجسیم بھی ضرور کرنی چاہیے جسے اگر کبھی دیکھیں تو اسے اپنی نظموں پر منطبق کر کے ہم اپنی فنی مہارت کا اندازہ بھی کر سکیں۔

قاریٔ محترم اسے ہم فقیروں کی چالاکی نہ سمجھئے اگر آپ کا خیا ل اس موقع پر کسی اور جانب پھسل رہا ہو تو وہ بے چارہ بھی کچھ زیادہ راہ گم کردہ نہیں ہے۔ صرف یہ بات دھیان میں رکھیئے کہ ہم استاد تھے، اور استاد بھی جنابِ ندیم کے کردار مولوی عبداﷲ کی طرح بنیادی طور پر ایک انسان ہوتا ہے۔ لہذا اسے بھی اپنے اندرونی محسوسات کے اظہار کا حق ضرور حاصل ہونا چاہیے لیکن اتفاق ہے کہ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ ہم نے ہاتھ میں قلم کی بجائے پلاسٹر تھاما توہمیں ہرگز یہ اندازہ نہ تھا کہ ہمارے ہاتھوں کوئی پیکر معرضِ تشکیل میں آ جائے گا اور پھر یہ کاروائی ہم ایک ایسی بیٹھک میں کر رہے تھے جو ایک فرشی مسجد کی عین بغل میں پڑتی تھی گویا…مفر خؤر…ہم نے اس زیادتی غالب کے سر تھوپا جو ہم سے بہت پہلے کہہ گئے تھے،۔

مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہئے

مگر اس عمل آذری میں احتیاز وہی کی، جو ماہ رمضان میں بعض ہوٹلوں والے کرتے ہیں، چنانچہ کچھ لالٹین اور کچھ وجدان کی روشنی سے ہم نے اپنا کام چلا لیا اور جب کام چل نکلا یعنی ایک ہنستا مسکراتا پیکر ہمارے ہاتھوں میں آگیا، تو یوں لگا جیسے ہم نے مونٹ ایورسٹ جیسی چوٹی تن تنہا سر کر لی ہے۔

ہم نے وہ مجسمہ اپنے چند نہایت قریبی احباب کو دکھایا تو ان میں سے ایک نے ہم پر محض الزام تراشی کی غرض سے اس کی تصویر بھی اتار لی اور اسے سر راہے کہ ہم جیسے ناظر کی نظر میں اتری کسی ’’کرماں والی‘‘ کی شبہیہ قرار شے ڈالا اور ہمیں یہ تو یہ کہا۔ کہ

خود بھی وہ خوب چوکس و چالاک ہے ظفرؔ

مدت سے آپ کی ہے نظر جس کے مال پر

لیکن ہماری حیرت کا اس وقت حد نہ رہی جب ایک دن وہی تصویر ہمیں بذریعہ ڈاک کچھ اس طرح کے نفس مضمون کے ساتھ موصول ہوئی کہ ’’حضرت ! آپ کے فن کی داد دئیے بغیر تو نہیں رہا جا سکتا۔ لیکن اسے کیا کہا جائے کہ مجھے اپنے باپ کی عزت بھی عزیز ہے، البتہ اتنا ضرور کہوں گی کہ اپنی اس غائبانہ مصوری نے میرے اندر خدا جانے کیسی ہلچل سی مچا دی ہے۔ اس کے باوجود مجھے اپنے اوپر پورا پورا کنٹرول حاصل ہے لہذا اس سلسلے کو آگے نہیں بڑھنے دیجئے گا۔

ہم نے وہ خط اٹھایا اور اسے اپنے اسی دوست کے پاس لے گئے جس نے زنانہ طرزتحریر میں ہمارے ساتھ یہ مذاق کیا تھا لیکن جب اس نے وہ چہرہ ہمیں راہ چلتے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا ایک موقع بھی فراہم کر دیا تو ہمیں یقین سا آنے لگا کہ

عشق اوّل درِ دل معشوق پیدا می شود

ہم نے اپنے کئے پر پچھتانا تو کیا تھا البتہ اتنا ضرور ہوا کہ محترمہ کے سچ مچ کے بقلم خود لکھے ہوئے پند نامے کے رعب میں آگئے جو دراصل ہمارے اندر ہی کا یہ خوف تھا کہ اگر یہ مشق جاری رکھی گئی تو خدا جانے ہمیں اس انداز کے اور کتنے تنبیہی خطوط موصول ہوتے رہیں گے لہذا ہم نے

اس وقت مجھے دعٰوی تسخیر بجا ہے

جس وقت مرے حکم میں وہ عشوہ گر آوے

اس مجسمے کو جس نے ہمیں ایک طرح سے مبہوت سا کر دیا تھا اس میدان میں اپنی پہلی اور آخری کوشش قرار دیتے ہوئے اپنے سوٹ کیس میں برے اہتمام سے بند کر دیا۔

کچھ دن گزرے تو ہمیں کچھ کرم فرماؤں کے کہنے پر اُن کے ڈیرے پر اُٹھ جانا پڑا یعنی بالجسد اُن کے سایۂ بزرگی میں جا پہنچے جہاں اور تو کچھ ہوا نہ ہوا ہماری شاعرانہ بانسری ضرور بند ہو گئی۔ اور یہ ایک شاعری ہی تو تھی جس کے ناطے ہم اپنے دل کا بوجھ گاہ گاہ ہلکا کر لیا کرتے تھے۔ لہذا حبس کی اس فضا سے ہم نے جلد چھٹکارا حاصل کر لیا اور ایک اور مکان میں منتقل ہو گئے کہ مکان بدلنے میں پہلے ہی ہمارا جواب نہ تھا۔ مکان کی تبدیلی پر ایک دن سوٹ کیس کو جھاڑنے کا خیال آیا اور مجسمے کا مزاج بھی پوچھنے کی کوشش کی تو بے چارے کا سر اس کے تن سے جُدا نظر آیا جسے ہم نے بجائے کسی بت شکنی کے کارنامے کے محص انتقالِ مکان کے سلسلے میں اس کے معاً ضرب آشنا ہونے پر محمول کیا اس کے ٹکڑوں کو سریش سے جوڑا اور اسے سوٹ کیں میں دوبارہ دفن کر دیا۔

ہمیں اس امر کا اندازہ تو نہیں کہ اگر ہمارے ذہن میں یہ مجسمہ بنانے کا خبط سما گیا تھا تو بعد از تشکیل اسے اس طرح سنیت کر رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ دراں حالیکہ ہم اوّل آخر مسلمان تھے اور مسلمان بھی نہایت سادہ لوح، ہاں جب کبھی اس دیہاتی ماحول میں ہمیں اس کی موجودگی سے کسی کنواری ماں کی خطا جیسا احساس ہوتا جسے ہم لوگوں کی نظروں سے چھپاتے پھرتے تھے تو اندر سے ایک آواز بلند ہوتی کہ اگر پھول سے خوسبو آتی ہے تو اسے ضرور انا چاہئے کیونکہ پھول یہ خوشبو کہیں سے چرا نہیں سمجھا جا سکتا۔

یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ

تُجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

مجسمہ بنا، ٹوٹا پھر جُڑا اور ہم نے اسے ہمیشہ easy ہی لیا لین اس انکشاف پر کہ ہم اپنے جاننے بوجھنے والے حلقوں میں آذر کے حلقۂ شاگردی میں شامل سمجھے جا چکے ہیں ہمیں پہلی بار ایک عجیب طرح کی حیرت کا سامنا ہوا لیکن جب ہم نے اس سلسلے کی کڑیاں اپنی گزشتہ نقل مکانی سے ملائیں تو حکایت ڈائجسٹ والے احمد یار خان کے تفتیشی کلیات کے تحت ہم نے اس الزام کے اپنے سر تھوپے جانے کو بالکل برحق سمجھا مگر ساتھ ہی یہ خیال ہمارے لئے باعثِ تسلی بھی ہوا کہ وہ حضرت جو رشتے میں کسی نہ کسی طرح ہمارے بزرگ قرار پائے تھے، پنجگانہ نماز پڑھتے تھے اور اورادو وظائف اس پر مستزاد تھے آخر ہمارے سوٹ کیس کا لنڈی کوتل براند کھولنے میں کامیاب کیونکر ہوئے اور اس کامیابی کے حصول کے لئے انہیں ہمارے غیاب میں یہ خیال سوجھا …تو کیسے سوجھا … اس لئے کہ … مگر چھوڑیے صاحب ان باتوں کو اور آئیے ہماری ان کاوشوں کی جانب جو فن کا فن بھی تھیں اور جن پر اس طرح کی کئی قدغن بھی نہ تھی، ہماری مراد یقینا اپنی شاعرانہ استعداد سے ہے وہی استعداد جس کا بھوت ان دنوں ہم پر کچھ زیادہ ہی سوار تھا۔

تنہائی چاہے جیسی بھی ہو انسان کو کسی دوسرے کو اپنے پاس کھینچ لانے کی ترعیب دلاتی ہی رہتی ہے اور اگر یہ امر ناممکن ہو تو پھر بزبان مومن اس طرح کے شعر کہلایا کرتی ہے۔

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

ہم کہ بطور استاد مرعوب رہنے کے اسباب ازخود ہی پیدا کرتے رہتے تھے اس میدان میں خاصے غالب بھی تھے اور خواہش یہ رہتی تھی کہ ہمیں اگر کچھ میسر رہے تو یہ بھی ہو اور وہ بھی یعنی ہماری فکری تنہائی ہم سے شعر بھی کہلائے اور ایسے احباب کو بھی کھینچ لائے جو از قبیلۂ ما ہوں

لوگ ہی آن کے یک جا مجھے کرتے ہیں کہ میں

ریت کی طرح بکھر جاتا ہوں تنہائی میں

ان حضرات کی تعداد اگرچہ زیادہ تھی لیکن ایک کا ذکر ہم ضرور کریں گے۔ جن سے ہمارا تعارف بالکل اسی طرح ہوا جس طرح پُنوں کا تعارف سسّی سے ہوا تھا کہ جو سوداگر سسّی کے دیس سے لوٹتا پُنوں سے اس کے حسن لازوال کے قصے بار بار بیان کرتا یہاں تک کہ پنوں میاں ایک دن اس حسنِ بیمثال کی تلاش میں خود ہی نکل کھڑے ہوئے ہمیں ان صاحب کا کھوج اس رسالے کے تازہ شمارے سے لگا جس کے ہم کچھ عرصہ پہلے مُدیر بھی رہ چکے تھے اورجس کی ادارت کے فرائض بہت مدت بعد ہمارے اشتراک کے ساتھ انہوں نے خود بھی اپنے ذمے لئے مذکورہ شمارے میں ایک غزل مطبوعہ تھی جس کا مطلع تھا

چاند نکلا کوئی بیمار اٹھا ہو جیسے

رات چمکی مرا غم پڑا ہو جیسے

ہم نے یہ غزل پڑھی اور اس کا دروازہ کھلتے ہی یعنی مطلع پڑھتے ہی پنوں ہو گئے، پنوں کو تو پھر پاپیادہ چلنے یا شتر سواری کرنے کا تکلف بھی کرنا پڑا ہو گا لیکن ہم نے محض ریل کا ٹکٹ لیا اور چودہ پندرہ میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد منزلِ مقصود پر پہنچ گئے۔ اس لئے کہ حضرت کا پیشہ اور شغل دونوں ہمارے پیشے اور شغل کے عین مطابق تھے، ملاقات ہوئی توجیسے جنم جنم کے آشنا نکلے طبیعت میں ایک جانب اتھاہ دردمندی اور شکیب جلالی مرحوم کی شعری تصویروں کے مرقعے لیکن……

ہونٹوں پر رقص میں تری رنگینی جمال

یعنی لبالب خوش کلامی سے آراستہ، ملاقات کے بعد (کہ انکی جائے تدریس پر ہوئی تھی) جب فقریوں کے ڈیرے پر پہنچے تو مرحلہ ہماری تواضح کا آ گیا جس کا تھوک کے حساب سے انہوں نے جم گیس پیپرز کی طرح ایک ہی حل نکال رکھا تھا، اور وہ حل تھا اکٹھے چھ دنوں کے راشن کی ذخیرہ اندوزی جسے عرفِ عام میں میٹھی روٹیاں کہا جاتا ہے ہم نیاس کے عولاہ ان کے کمرے میں چائے کی کیتلی، پانی کے گلاس اور سٹوو کیسوا کچن کی رشتہ دار اور کوئی چیز دیکھی جس سے ہمیں ان کی نالائقی پر ایک طرح سے رحم بھی آیا اس لئے کہ ہم تو اگر سروس سے نکال بھی دئیے جاتے تو اس جنت الفردوس کو چھوڑنے کے بعد بھی اپنے پاس نیم باورچی ہونے کا ڈپلومہ ضرور رکھتے تھے، رہا سوال ان کی اس روز کی اس تواضح کا تو یقین جانئے، دودھ اور مکھن سے خستہ کی ہوئی ان روٹیوں کا ذائقہ کچھ ایسا نکلا کہ ماوری شفقت کیاس توشے کی موجودگی میں ہمیں موصوف کا وہ مطلع ک بھول گیا جو کشاں کشاں ہمیں وہاں تک لایا تھا۔

یہ تو تھی ان حضرات سے ہماری پہلی ملاقات ان سیایک اور ملاقات کا قصہ اور بھی دلچسپ ہے۔ ہم اپنے ایک کرم فرما کے ساتھ ان سے ملنے گئے تو پروگرام یہ طے پایا کہ ہم آمدہ شب ان کے پاس ہی گزاریں جس کے عوض وہ اگلی صبح راولپنڈی تک ہمارا ساتھ یں گے ان کا بارورچی خانہ خاصا آباد تھا اس لئے کہ وہ کہیں سے ایک عدد نوکر لاش کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے، موصوف نے ہمارے لئے مرغ کا گوشت تیار کروایا رمضان المبارک کا مہینہ تھا، بڑی پرتکلف افطاری کے بعد کھانا کھایا تو مرغ ہم تینوں کی دسترس سے صاف بچ گیا جس کا بظآہر ایک ہی حل موجود تھا کہ ہم سحری کے وقت اس کا نشہ ہرن کر دیتے، رات ہوئی تو انہیں اپنے ہیڈماسٹر کا پیغام پہنچا جس کا خلاصہ مضمون یہ تھا کہ وہ آئندہ دن سکول میں ہی گزاریں گے۔ ہم نے یہ صورت حال دیکھی تو سحری کی گاڑی ہی سے پنڈی کھسک جانا مناسب سمجھا اس لئے کہ اگر رُک جاتے اور وہ اکلوتی بس ہمیں میسر نہ آتی جس کی امید پر ہم نے رات وہاں گزارنے کا پروگرام بنایا تھا تو پھر ہماری روانگی اگلی سہ پہر ہی کی گاڑی سے ممکن تھی۔

ہم نے کہ سٹیشن تک کے ایک آدھ میل کے پیدل شبانہ سفر کی فکر سے بھی دوچار تھے۔ سحری سے دو تین گھنٹے پہلے ہی اسٹیشن کا رخ کر لیا، شدید جاڑے کے دن تھے اور ہمارے پاس دن دہاڑے کی سردی کے پیش نظر ایک ہی کمبل تھا ہم چلے تو میزبان کو جگانا سوئے ادب سمجھا اور چونکہ آئندہ سحری عالمغربت میں درمیان میں پڑتی تھی اس لئے ہم نے بلااجازت میزبان اور بااجازت مرغ بریان بچی کھچی دو چپاتیاں اور مرغ برشتہ کے دست و بازو صاحب خانہ کے باورچی خانے سے اٹھائے اور اپنے بیگ میں اڑس لیا۔

موصوف کو سید بادشاہ تھے ہماری اس حرکت پر خفا ہونے سے تو رہے تھے تاہم ہمیں یہ وہم ضرور تھا کہ یہ مُرغ دزیدہ ہمیں بھلے ہی ہضم ہو گا۔ اسے اتفاق جانیے یا موصوف کیکرامت کہ جب ہم سٹیشن کے جوار میں پہنچیاور خیر سے تن بدن سے الف ننگے ایک شیڈ کے نیچے پناہ لی تو سردی کی لہر ہمارے آرپار یوں نکل گئی جیسے خربوزیکے درمیان سے چاقو نکل جاتا ہے وہ تو بھلا ہو وہاں کے مقیم ہوٹل کے ایک مالک کا جس نے ہماری دستگیری و تن پوشی کی ورنہ ہمارے ہاتھوں آج یہ سطور آپ تک شاید ہی پہنچ پاتیں۔

ان صاحب کا نام ہم نے انقاماً صیغہ رازمیں رکھا ہے اس لئے کہ ہمارا یہ کامیاب شاعراب محض ایک تہ دار پروڈیوسر ہے اور ہمارے مسلسل تقاضوں کے بعد ہمارا منہ بند رکھنے کو اکثر اوقات اپنا پوٹھوہاری کلام چھپوانے کی تسلی بھی ہمیں دے دیتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ اپنے کامیاب پروڈیوسر ہونے کے ناتے ہی کبھی اپنی اندر کے کامیاب شاعر کو بھی ہوا لگوائے لیکن اگر ایسا ہوا تو گفتہ فیض کا کیاہو گا۔؎

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

ماجد صدیقی
Advertisements