تخلیقِشعر میں استغراق تو اپنی جگہ تھا سو تھا اور اس کے بعض منفی نتائج بھگتنے کی سکت بھی اُس وقت ہم میں تھی یعنی یہی کہ اپنے ارادوں میں کوئی فتور نہ تھا۔ لہٰذا۔۔۔۔ہاتھ کنگن کو آرسی کیا؟۔۔۔۔

سَو الزاموں کا ایک جواب تھا… لیکن ہمارے اعصاب میں خود طعامی کے باعث (جسے چھڑے لوگ اپنی زبان میں دست خود ‘دہان خود کے گلچھڑے بھی کہتے ہیں)جو تازگی اور شادابی رفتہ رفتہ آنے لگی تھی ہم نہیں چاہتے تھے کہ وہ طراوت ہمارے ہم اطاق کی بلند بانگی، طول گفتاری اور کج کلامی کی نذر ہو جاتی اس لئے کہ موصوف نہ صرف یہ کہ پچاس مرچوں کی ترکاری روزانہ زیرِ حلقوم کرتے بلکہ اگلی صبح سے شام تک اپنے نطق و لب کے ذریعے اپنی اس نرالی خوراک کا مزہ دوسروں کوبھی چکھاتے۔جن میں ازراہ خوش نصیبی ہم سرِفہرست تھے چنانچہ ہمیں یہ ہم نفسی کچھ زیادہ عرصے کے لئے راس نہ آئی۔

قبل اس سے کہ ہم اپنے مزید سکونتی دکھوں کا پٹارا کھولیں، آئیے آپ کو ان درودیوار تک لے چلیں جن کے درمیان ہمارے ماہانہ رزق کی کھیتی اُگا کرتی تھی اور جو اپنے اندر کام دوہن کی شیرینیوں کے علاوہ محرکاتِ فکر و خیال بھی رکھتے تھے، سربراہِ مدرسہ کہ طبعِموزون و زبانِ بے قابو رکھتے تھے، ازل ہی سے جیسے چِھدرے پہلوانی جسم اورکُھردرے تیوروں کے بلاشرکتِ غیرے مالک تھے مگر ہر کسی کی شنید یہی تھی کہ اندر سے حریر و پرنیاں ہیں اس لئے کہ حالات و واقعات سے یہی ہویدا تھا کہ اپنے ماتحت عملے پر ان کی پہلی گرفت تو ہمیشہ عقابی ہوتی یعنی سخت مضبوط لیکن جب معاملہ جزاوسزا کاآتا تو یکا یک اپنی احتسابی کارروائی سے دست کش ہو جاتے لہٰذا یا تو وہی راہ اپناتے جس کا تذکرہ ہم نے پہلے بھی کیا ہے کہ روٹھ بیٹھتے یہاں تک کہ اپنا استعفے تک بھجوا دیتے یا پھر اپنے شکار کو اپنے قدموں میں لا ڈالتے اور اس کی خطا سے درگزر ہی نہ کرتے اسے سینے سے لگاتے، پیار کرتے بلکہ اس کے اعزاز میں ایک آدھ وقت کی ضیافت کا اہتمام بھی کر ڈالتے لیکن اُن دنوں صورتِحال یہ تھی کہ اُن کا ہماراساتھ کچھ اس طرح کا تھا جس طرح کا ساتھ غروب آفتاب کے وقت آٹھویں دسویں کے چاند کا سورج سے ہوا کرتا ہے یعنی چاند نظر تو آرہا ہوتا ہے لیکن غروبِآفتاب تک اپنی کسی ضیا پاشی سے قاصر ہوتا ہے، مُراد یہ کہ وہ ریٹائر ہونے والے تھے اور ہماری ملازمت کی ابھی ابتدا ہو رہی تھی

تُجھ سے قسمت میں مری صورتِ قفلِابجد

تھا لکھا بات کے بنتے ہی جُدا ہو جانا

موصوف کہ اندر سے خاصے نرم لیکن باہر سے خاصے گرم تھے کسی حد تک مزاج بھی شمسی رکھتے تھے کہ بادل کا کوئی ٹکڑا سامنے آگیا تو سرا سر موم ہو گئے مگر جونہی وہ ٹکڑا ہٹا پھر اپنی اصلی تابانی پر اُتر آئے سکول کی آرڈر بُک ان کا عصائے پیری تھا وہ جو بات بھی کرتے بزبانِ قلم کرتے اور اگر صوت کی باری کبھی آ بھی جاتی تو وہ ان ہی حرفوں کی صداقت کو تسلیم کرانے کے موقع پر آتی جو ان کی ز بان و قلم سے ٹپک چکے ہوتے اور پھر یوں آتی کہ گرم بھٹی میں جھنکنے والے دانوں کی صداکاری بھی سننے والے کے ذہن سے محو ہو ہو جاتی لیکن یہ سارا کچھ میدانِ رزم کا قصہ تھا یعنی اوقاتِدرس و تدریس کی درمیانی حدوں تک محدود۔ ورنہ فارغ اوقات میں تو وہ بسا اوقات کچھ ایسی بے تکلفی پر اتر آتے کہ تقاضائے سن کو بھی بالائے طاق رکھ دیتے۔

ایک دن کا ذکر ہے، کچھ اِسی طرح کے مُوڈ میں جملہ اساتذہ کے درمیان دولہا بنے بیٹھے تھے کہ کسرتِ جسمانی کا ذکر چل نکلا جس پر انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنا روایتی پاجامہ گھٹنوں تک چُھنگ لیا آستینیں چڑھا لیں…… اور

صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے

کا نعرہ لگاتے رانوں پر چٹاک چٹاک ہاتھ بجاتے سکول کے گراؤنڈ میں نکل کھڑے ہوئے اور کّوا چال کا وہ مقابلہ آغاز کیا کہ سارے ہنس اپنی اپنی چال چوکڑی بھول گئے۔

موصوف کی ایجاد کردہ یہ کّوا چال…… پیروں کے بل بیٹھے بیٹھے ایک بہت بڑے دائرے کی شکل میں پیہم جادہ پیمائی پر مشتمل تھی جو شریکِمقابلہ کی حسبِاستطاعت کئی چکروں کو پورا ہونے پر جا کر ختم ہوتی تھی اور یہ چال انہوں نے کچھ اس طرح کمائی ہوئی تھی کہ انجمنِ مذکورکے جوانانِ طناز تک ان کے سامنے گھٹنے ٹیک کر رہ گئے، احتراماً نہیں بلکہ واقعتاً ہم کہ شریکِ مقابلہ نہ تھے بلکہ ساحل نشیں تھے ان کی اس ادائے رستمانہ سے اندرہی اندر سمٹتے جا رہے تھے کہ ان کی روایتی سینہ زوری کے اصل پس منظر کا ایک ایک پہلو ہم پر ان کے ایک ایک چکر کے ساتھ کھلتا جا رہا تھا۔یعنی بقولِ غالب

دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آجائے ہے

میں اسے دیکھوں ،بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے

ہمارا حافظہ موصوف کے دبدبے کا اب بھی شکار نہ ہو تو ہمیں یاد پڑتا ہے کہ ہم بھی ایک بار اُن کی ایک ذاتی فرمائش کی زد میں آگئے تھے، یہ مقابلہ فروغِ قوائے جسمانی کا نہیں بلکہ فروغ قوائے ذہنی کے سلسلے کا تھا یعنی وہ ہم سے انگریزی کا قاعدہ پڑھنے پر اتر آئے اس غرض سے نہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اپنا تعلیمی کیرئیر مکمل کرنے کی فکر میں تھے بلکہ اس لئے کہ ان کا اکلوتا فرزندِارجمند آمدہ سیشن میں حصہ پرائمری سے حصہ مڈل میں پہنچنے والا تھا جس کی تدریس کامکمل ذمہ وہ خود ہی لینے پر مصر تھے۔جی ہاں بقول غالب

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے

رہنے دو ، ابھی ساغر و مینا مرے آگے

ہم نے بکمال انکساری و اماں طلبی اپنے افسرِ مجازکی اس ناگہانی فرمائش کو بہ سرو چشم قبول کیا اور ڈرتے جھجکتے انہیں ایک ایک حرف مادرانہ شفقت کے ساتھ چُسوانے لگے لیکن موصوف ۔۔۔کہ مدّتِ مدید سے ریزرو ذہن کے تنہا مالک تھے، ہماری زبان سے بہ تمام نرمی ٹپکنے والے زبانِغیر کے ہر ہر حرف کو سو سو پہلو سے ٹٹولتے، ہزار انداز سے اس کا جائزہ لیتے تب کہیں اسے اپنے حلق سے نیچے اتارتے ٹی وی پر تعلیمِبالغاں کا سلسلہ اب شروع ہوا ہے اگر ان دنوں شروع ہوا ہوتا تو جتنی بے نتیجہ محنت ہمیں ادب کے میدان میں اب تک کرنی پڑی ہے اس کی ہمیں ضرورت تک محسوس نہ ہوتی اس لئے کہ اس سمے ہماری استادی اور ان کی شاگردی کے جو جو مناظر مرتب ہوئے اگر ٹیلی وائیز کر لئے گئے ہوتے تو آج ٹی وی کی سکرین ہمارے ان اسباق سے بغیر کسی تردّد کے مزین ہو چکی ہوتی مگر خیر چھوڑئیے اس قصّے کو ہیڈماسٹر صاحب کے اور ہمارے درمیان تعلیم و تعّلم کا یہ سلسلہ چل نکلا تو نہ صرف یہ کہ آگے بڑھنے لگا بلکہ بعض اوقات اِدھر اُدھر بھی پھیل پھیل جانے لگاا یعنی درمیان میں کچھ مقامات ایسے بھی آجاتے کہ اگر ہم انہیں نصابی کتاب کا درس دے رہے ہوتے تو وہ ہمیں اپنی تجرباتی کتاب کے صفحات میں محو کر دیتے۔(فیض سے معذرت کیساتھ)

جن کے ہر اک ورق پہ دل کو نظر

اُن کے جورو جفا کے باب آتے

تاہم ہوا یہ کہ جب انگریزی الفاظ کسی کھوچل، چین کی طرح ان کی زبان کی چرخی پر چڑھنے لگے تو ساتھ ہی ساتھ ان کے سر سے اس شوقِ فزوں کابُھوت اترنے بھی لگا ہمیں اپنی ہم شیر زبان یعنی پنجابی کے بارے میں وہم تھا کہ اس کے الفاظ جس طرح بولنے میں آتے ہیں لکھنے میں نہیں آتے مثلاً پانی کہانی وغیرہ لیکن جب ہم نے ان کی زبانی یہی کرید زبانوں کی ملکہ انگریزی کے حق میں دیکھی تو ہمارا ان کی مشرق پرستی پر جیسے ایمان سا آنے لگا اور حق تو یہ ہے کہ ان کی یہی والہانہ وابستگی ان کے متذکرہ شوقِفزوں میں اتار کا باعث بھی ٹھہری۔ اس سلسلے میں ان کا مؤقف یہ تھا کہ اگر انگریزی میں لفظ چیئر (کرسی) …… کے تلفظ میں سی ایچ (CH) … اردو کے حرف ’’چ‘‘ کی آواز دیتا ہے تو لفظ سکول، سکول کیوں ہے؟ سچول کیوں نہیں، اسی طرح کے کچھ اعتراضات انہیں اور بھی تھے، مثلاً بی یو ٹی، ’’بَٹ‘‘ ہے تو… پی یو ٹی ’’پُٹ‘‘ کیوں ہے۔ وغیرہ وغیرہ اور انہیں چونکہ حق شناسی کی نسبت اکثر بزرگوں کی طرح حق سرائی کا دعویٰ کچھ زیادہ ہی تھالہٰذا وہ اپنا دامانِ فہم و ادراک (بقول خود) ایسی منافق زبان کے اکتساب سے تر نہیں کرنا چاہتے تھے جس کا نہ کوئی اصول ہے نہ قاعدہ! نہ دین ہے نہ ایمان، یعنی قدم قدم بلکہ سطر سطر پر دوغلے پن کا شکار ہے چنانچہ یہ سلسلہ تھوڑا ہی عرصہ چلا اور ٹھپ ہو کر رہ گیا بلکہ اس کے ساتھ ہی ان کی ملازمت کے دن بھی پورے ہونے کو آگئے جن کے قریب تر پہنچنے پر انہوں نے ایک بار پھراپنی استعفیٰ بازی کا کھیل بھی رچایا لیکن غالباً …… وہ دن ان کے اس تپِ محرقہ کے بحران کے دن تھے لہٰذا اس سلسلے کی ۔۔۔ آخری ناز برداری کا لطف سمیٹنے کے کچھ ہی دنوں بعد وہ فطری انداز ہی سے سکول کو خیرباد کہہ گئے۔

ماجد صدیقی
Advertisements