ہمارا کارِآشیاں بندی اور عرصۂ بے کاری و بے زاری ایک ساتھ شروع ہوئے کہ اِدھر ہماری منگنی ہوئی اور اُدھر ہمیں اپنی جیسی تیسی نوکری سے بہ یک بینی و دوگوش نکال باہر کر دیا گیا۔

دیکھیے، پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض!

اک برہمن نے کہا ہے: ’’ کہ سال اچھا ہے‘‘

ہماری منگنی کی خبر تو کچھ ایسی مسندِ وزارت پر بیٹھنے کی اطلاع نہ تھی جس کے رُعب میں ہمارا سرپرست محکمہ ہمارے سر سے اپنا سایہ ہٹا کر پَرے ہو بیٹھتا اور کہتا: ’’لو میاں! اب تم جانو اور تمہاری آئندہ کی مصروفیاتِ جلیلہ‘ ہمارا تمہارا ساتھ تو صرف یہیں تک تھا ‘‘ … لیکن ہماری تو ابھی محض منگنی ہوئی تھی اور امرِ واقعہ یہ تھا کہ ہماری اصل تو کیا فالتو وفائیں بھی ابھی اپنے محکمے ہی کے نام تھیں لہٰذا جو کچھ ہوا اس میں زیادتی منشائے محکمہ ہی کی تھی، ہماری کسی کوتاہی کااس میں دخل نہ تھا اس لئے کہ ہم نے تو اس دارِفانی میں اس سے پہلے اور بعد میں جو ملازمت بھی اختیار کی اس کا پیراہن بالعموم کاغذی ہی رہا، گویا ملازمت کا انقطاع ہماری کسی حرکتِ نازیبا یا فعلِبد کے باعث نہ ہوا۔ اور اب کے بھی یہ تیر تقدیر کے ترکش سے چلا یا پھر اُس نظام کی خُرجی سے جو آج تک کوہِ ندا کی طرح ہماری زندگیوں پر آوازے کستا آرہا ہے۔

کارِ آشیاں بندی کے لئے کمر باندھتے ہی ہمیں اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے تو اس کا سبب یہ نہ تھا کہ خدانخواستہ ہمارے لکھا پڑھا ہونے میں کوئی شُبہ تھا یا ہماری سندات میں کوئی جعل سازی

کارفرما تھی۔ اس لئے کہ چوردروازوں سے سندات کی تقسیم کا پراپیگنڈہ ذرا بعد میں چلا ہمیں تو سندات کے حصول میں فرہاد کی محنتِ شاقہ سے بھی کہیں زیادہ دقّتوں سے دوچار ہونا پڑا۔ دوسری وجہ ہم میں قوتِ کار کا فُقدان یا توڑ ہو سکتی تھی۔ سو وہ بھی نہ تھی کہ آتش ابھی ابھی جوان ہو رہا تھا۔ تیسرا سبب یہ ہو سکتا تھا کہ خدا نکردہ ہم کوتاہیٔ فرض جیسے عارضے میں مبتلا ہوتے، سو یہ بھی غلط کہ ہم تو ایک مڈل ایس وی سربراہِ مکتب کے زیرِنگیں اپنی پوسٹ گریجوایٹی کو ہرلحظہ سدھائے رکھنے کے بالا رادہ قائل تھے۔لہٰذا اس کے باوجوداگر ہمیں اس لائق نہ گردانا گیا کہ ہم چھٹی سے آٹھویں جماعت تک کے نونہالوں کے منہ میں انگریزی کی چوسنی دئیے رکھتے تواس کا باعث ایک ہی تھا کہ ہماری گزشتہ شش سالہ ملازمت سرا سر بے نکاح تھی یعنی یہ کہ ہمیں پیشہ ورانہ تربیت حاصل نہ تھی تاہم اِس خرابی میں بھی تعمیر کی یہ صورت ضرور مضمر تھی کہ اگر ہم موجودہ محکمہ کی حدودِ اختیار سے ہجرت کر جاتے تو اسی استحصالی نظام میں ہم اس بات کے اہل بآسانی تھے کہ مڈل سکول کے طلباء کی بجائے کالج کے طلبا کو بغیر کسی پیشہ ورانہ پروانے کے پڑھا سکتے۔

دل سے قطرہ جو نہ نکلا تھا، وہ طُوفاں نکلا

اور ہوا بھی یہی کہ ہمیں کچھ مدت بعد مؤخرالذکر خدمت کے لئے منتخب کر لیا گیا۔

جو چاہے آپکا حُسنِ کرشمہ ساز کرے

لیکن وہ جو ہم … اوّل الذکر خدمت سرانجام دیتے دیتے۔

’’تمہیں سو گئے داستاں کہتے کہتے‘‘

ہو گئے تھے۔ اس خدمت کی انجام دہی اور اس خدمت کے مسندِشاہجہانی پر بیٹھنے تک کے مراحل بھی کچھ کم جرأت نہ تھے۔

بارے اُن کا بھی کچھ بیاں ہو جائے

اور اس بیان کی ابتدا اس امر سے ہوتی ہے کہ ایف اے تک کی تعلیم ہم نے راون کی طرح نہیں رام چندر جی کی صورت ایک طرح کے بن باس کے عالم میں حاصل کی کہ

دانایاں گفتہ اند……’’فطرت اور مطالعہ کا تعلق بڑا گہرا ہے‘‘۔ لہذا یوں سمجھیے کہ جو مطالعہ میں پڑا فطرت کے قریب تر ہو گیا اور جو فطرت کے قریب تر ہوا وہ ایک طرح کے بن باس پر نکل کھڑا ہوا یوں بھی دیہی جہالت کی راجدھانی سے ہمیں دلِ ناداں کے ہاتھوں چودہ سال کی جو مہلت ملی تھی اسے اپنے طورپر ہم بن باس ہی کہہ سکتے ہیں۔ ہر چند ہم نے اس بن باس کے صرف بارہ برس ہی ایک تسلسل سے گزارے پھر بھی چوراسی فیصد کامیابی نے ہمارے قدم ضرور چومے کہ ایف اے کا امتحان ہم نے 1:3½ کے کُلیے کے تحت زہر مار کیا یعنی اس میں ایک مضمون میں کمپارٹمنٹ کے ساتھ کامیاب ہوئے۔

میٹرک کا سرٹیفکیٹ ہم نے ایک دیہاتی سکول سے لیا تھا۔ اس لئے کہ ہم ’’جَم پَل‘‘ ہی ورڈزورتھ کی اسی Dominion (قلمرو) کے تھے اور کالج کی تعلیم کا آغاز ایک ٹاؤن کالج سے کیا جو ہماری نظر میں بلاشبہ پہاڑ سر کرنے کے مترادف تھا۔

میٹرک میں کچھ اساتذہ کی بے پناہ شفقت سے‘ کچھ ہم جماعتوں سے مسابقت کے شدید احساس سے اور کچھ اس وافر ذہانت سے جسے بچپن میں کوئی شغل بجز تعلیمی مصروفیات نہیں ملا تھا۔ ہم نے کچھ اچھے نمبر ہی حاصل کر لئے۔ بس یُوں جانیے کہ امتحانِ مذکورہ کا سرٹیفکیٹ ہم نے فریم کرا کے گھر میں آویزاں کر دیا اور شاید یہی وہ نیک شگون تھا جو ہمارے اور والدین کے درمیان ایک طویل نزاع کے بعد بالاخر صلح پر منتج ہوا۔ اس لئے کہ انہیں پس و پیش کے مفت کے مشوروں کے باعث ہم سے اصرار تھا کہ ہم ان کے ’’کماؤ‘‘ فرزند ہو جائیں کہ ہم کلرک وغیرہ بننے کی استعداد تو اپنے اندر بہرحال پیدا کر چکے تھے ۔۔۔۔۔۔

لیکن… اُدھر ہمیں یہی دُھن… کہ ابھی تو ہم علم کے شہرِمنّور کی دہلیز پر ہی پہنچے ہیں۔ اس شہر کے اندر کیا ہے؟ یہ جاننے کی جستجو ‘تمنائے سیف الملوک کی طرح برابر ہمارے سر پر سوار تھی۔

والدین کا اصرار بھلا اپنی اولاد کے حق میں ہٹ دھرمی کو کہاں پہنچ سکتا ہے اور پھر ایسے حالات میں جب والدین انتہائی بھولے بھالے، مّروّت و شفقت کے پیکر اور نپٹ دیہاتی ہوں اور اس پر مستزاد یہ کہ ہم ان کی آخری اولاد ہونے کے ناتے کچھ کم لاڈلے بھی نہ تھے، سو میدان سراسر ہمارے ہاتھ رہا۔

یہ بات اگرچہ ہم پر بھی واضح تھی کہ ہمارے اس اقدام سے ہمارے والدین کے کندھوں پر بوجھ کچھ زیادہ ہی بڑھ جائے گا۔ لیکن بچے کو بازار سے گزرتے ہوئے چاہے باپ کی جیب کا علم بھی ہو، کھلونوں کی چمک دمک اس کے قدموں کو زنجیر کر ہی لیتی ہے۔ تاہم جب یہ سلسلہ چل نکلا تو چلتا ہی رہا، ہماری علیٰحدگی پسندی سے نہ تو بنگلہ دیش کا سا کوئی کہرام بپا ہوا اور نہ ہی قحطِ بنگال کا سا کوئی فتنہ ‘چنانچہ بالآخر ہم نے کالج میں داخلہ لے ہی لیا۔

ماجد صدیقی
Advertisements