ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 0
آنکھ دِکھا کر بس اتنا سا اپنا زور جتائے گا
ہم تم جس کو جھُوٹ کہیں وُہ اُس کو سچ ٹھہرائے گا
کون کہے بیوپاری، سودا اغوا ہونے والی کا
کن کن سنگدلوں کے آگے کس کس طور چُکائے گا
کاش اُنہیں جتلا پائے تُو، اصل بھی اپنے ناتے کی
جھنڈا جن کی کاروں پر، اے دیس! ترا لہرائے گا
اپنے جیسے ہی لگتے ہیں چَوک پہ بیٹھے راج مجھے
مول گجر دم سیٹھ کوئی جن کا آ کر ٹھہرائے گا
اِترائے گا جب بھی کبھی بیٹھے گا اپنے جیسوں میں
کون ستم گر ہے جو اپنی کرنی پر پچھتائے گا
شور زمینِ فکر ہے جس کی اور سینے میں زور بہت
کرنے کو اچّھا بھی کرے تو، کیا اچّھا کر پائے گا
چھید ہوئے جاتے ہیں جِس کشتی میں، اُس کے کھینے کو
دُور فرازِ عرش سے جانے، کون فرشتہ آئے گا
زورِ ہوا سے ٹہنیاں ٹوٹیں، پات جھڑے جن پیڑوں کے
کون سخی ایسا، جو اِن کے یہ زیور لوٹائے گا
خوشیوں پر رنجیدہ، اِک دُوجے کے رنج پہ جو خو ش ہیں
تو کیا اُن سِفلوں کو ماجدؔ دل کا حال سُنائے گا
ماجد صدیقی
Advertisements