ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
دلوں پہ کی ہیں سخن نے، گرانیاں کیا کیا
ہمارے حق میں ہوئیں، گل فشانیاں کیا کیا
نظر سے دُور ہیں، سرما کی چاندنی جیسی
دبک دبک کے مچلتی جوانیاں کیا کیا
کمان جب سے تناؤ میں طاق ٹھہری ہے
ہر ایک تِیر نے، پائیں روانیاں کیا کیا
لب و زبان پہ چھالوں، جبیں پہ سجدوں کی
غلامیوں نے ہمیں دیں، نشانیاں کیا کیا
چمن میں ایک سے نغموں کی اوٹ میں ماجدؔ
ہمیں بھی آنے لگیں، مدح خوانیاں کیا کیا
ماجد صدیقی
Advertisements