ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
گیاہ و برگ کو دیں بے زبانیاں کیا کیا
ملیں ہَوا کو اُدھر حکمرانیاں کیا کیا
بکھر گئی ہیں کسی مور کے پروں کی طرح
درونِ مصحفِ گل تھیں نشانیاں کیا کیا
گھرا ہے جا کے جہاں بھی ہجومِ طفلاں میں
ہوئیں بہ حقِ جنوں چھیڑ خانیاں کیا کیا
خلافِ فتنہ و شر جب بھی مستعد ٹھہریں
الٹ گئی ہیں یہاں راجدھانیاں کیا کیا
گماں تھا جن پہ کہ وہ رشکِ خضر ہیں ماجد
ہمیں اُنہی سے ہوئیں بدگمانیاں کیا کیا
ماجد صدیقی
Advertisements