ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
سُر اداسی کے بکھیریں سانس کی شہنائیاں
جبر نے بخشی ہمیں کیا گونجتی تنہائیاں
منتظر رہ رہ کے آنکھیں اِس قدر دھندلا گئیں
فرقِ روز و شب تلک جانیں نہ اب بینائیاں
رنگ پھیکے پڑ گئے کیا کیا رُتوں کے پھیر سے
گردشوں سے صورتیں کیا کیا نہیں گہنائیاں
جاگنے پر، تخت سے جیسے چمٹ کر رہ گئے
ہاتھ جن کے، سو کے اُٹھنے پر لگیں دارائیاں
لے کے پیمانے گلوں کی مسکراہٹ کے رُتیں
ناپنے کو آ گئیں پھر درد کی گہرائیاں
اُس سے ہم بچھڑے ہیں ماجد ابکے اِس انداز سے
پت جھڑوں میں جیسے پتوں کو ملیں رُسوائیاں
ماجد صدیقی
Advertisements