ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ٹھہرے جو بھسم ، مِلکِ ستم گار نہیں تھے
اِنساں تھے ، سرِ کوہ کے اشجار نہیں تھے
اب کے بھی پرندے وُہی ، ژالوں میں سڑے ہیں
جو ابر کی خصلت سے خبردار نہیں تھے
الزام محافظ پہ بھی تھا کچھ تو ، نقب کا
افراد اگر شہر کے بیدار نہیں تھے
رکھتے تھے مہک پاس جو ماجد کے ہنر کی
جھونکے تھے ، کچھ اُس کے وہ طرفدار نہیں تھے
ماجد صدیقی
Advertisements