ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
شاخ پہ پھول کھِلا دیکھا ہے
آگے انت اُس کا دیکھا ہے
زور رہا جب تک سینے میں
تھا نہ روا جو، روا دیکھا ہے
فریادی ہی رہا وہ ہمیشہ
جو بھی ہاتھ اُٹھا دیکھا ہے
ہم نے کہ شاکی، خلق سے تھے جو
اب کے سلوکِ خدا دیکھا ہے
سنگدلوں نے کمزوروں سے
جو بھی کہا ، وُہ کِیا ، دیکھا ہے
جس سے کہو، کہتا ہے وُہی یہ
کر کے بَھلا بھی ، بُرا دیکھا ہے
اور نجانے کیا کیا دیکھے
ماجد نے ، کیا کیا دیکھا ہے
ماجد صدیقی
Advertisements