ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 67
وُہ یاد آئے تو کس طرح مَیں بھلاؤں اُسے
یہ کیفیت بھی مگر کیسے اَب سُجھاؤں اُسے
دل و نظر سے جو اُس پر کھُلا نہ راز اپنا
تو حرف و صوت سے احساس کیا دلاؤں اُسے
کھُلی ہے سامنے اُس کے مری نظر کی کتاب
حکایتِ غم دل پڑھ کے کیا سُناؤں اُسے
وہ ساز بھی ہے تو ہے میرے لمس کا محتاج
یہ جان لے تو نئی زندگی دلاؤں اُسے
غزل یہ اُس کی سماعت کو کہہ تو دی ماجدؔ
کوئی سبیل بھی نکلے تو اَب سناؤں اُسے
ماجد صدیقی
Advertisements