ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
انگ انگ میں تیرے جذب ہو کے رہ جاؤں
یہ مری تمّنا تھی مَیں کہ آج پتّھر ہوں
رہ بہ رہ خزاؤں سے سامنا نظر کا ہے
دل کہ ایک صحرا ہے دیکھ دیکھ ڈرتا ہوں
کیا کہوں عجب سا ہے حادثہ مرا لوگو
سر بہ سر بہاراں ہوں پر خزاں سے ابتر ہوں
مقتلِ تمّنا ہے پیش و پس مرے ماجدؔ
مَیں کہ جیسے مجرم ہوں چین کس طرح پاؤں
ماجد صدیقی
Advertisements