ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
قّصۂ دہر کا عنواں ہونا
ہے میّسر مجھے انساں ہونا
کتنا مشکل ہے ترے غم کا حصول
کتنا مشکل ہے پریشاں ہونا
تو مری روح میں، وجدان میں ہے
تجھ کو حاصل ہے مری جاں ہونا
مہر کو سر پہ سجانا پل بھر
پھر شبِ سردِ زمستاں ہونا
پھُولنا شاخ پہ غنچہ غنچہ
اور اِک ساتھ پریشاں ہونا
کب تلک خوفِ ہوا سے آخر
ہو میسّر، تہِ داماں ہونا
تھے کبھی ہم بھی گلستاں ماجدؔ
اَب وطیرہ ہے بیاباں ہونا
ماجد صدیقی
Advertisements