ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
کچھ اِن دنوں عجب انداز سے جیوں ہوں مَیں
ہر ایک شخص سے جیسے چھپا پھروں ہوں مَیں
ہوئی ہے ایک ادا ہی ٹھٹک کے رہ جانا
سکون سے جو قدم دو قدم چلوں ہوں مَیں
گہے اڑوں ہوں مَیں برگِ خزاں زدہ کی مثال
گہے بصُورتِ غنچہ مہک اُٹھوں ہوں مَیں
نظر نہیں ہے جب اپنے ہی عجز پر ماجدؔ
کسی کے پیار پہ الزام کیوں دھروں ہوں مَیں
ماجد صدیقی
Advertisements