ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
جب بھی ہوتا ہے بہ احساسِ گراں ہوتا ہے
کیا کہوں ذکر ترا کیسے رواں ہوتا ہے
بِن ترے بھی مجھے محسوس ہوا ہے اکثر
جیسے پہلو میں کوئی ماہِ رواں ہوتا ہے
دیکھتا ہوں گلِ تر روز، بعنوانِ دگر
روز دل سے گزرِ شعلہ رُخاں ہوتا ہے
زندگی میں غمِ جاناں کا یہی حال رہا
جِس طرح پھول سرِ جُوئے رواں ہوتا ہے
درد کی آخری حد چھو کے مَیں کیوں گھبراؤں
رات ڈھلتی ہے تو کچھ اور سماں ہوتا ہے
ایک ہم ہی نہیں ماجدؔ رُخِ بے رنگ لئے
جو بھی ہو شعلہ بیاں، سوختہ جاں ہوتا ہے
ماجد صدیقی
Advertisements