ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
غزل لکھوں تو کِسے اپنا مُدّعا مانوں
کوئی صنم بھی تو ہو مَیں جِسے خُدا مانوں
مری ضیا سے مُنّور، مجھی سے بیگانہ
مَیں ایسے عہد کو کس طرح با صفا مانوں
حضور! آپ نے جو کچھ کہا، درست کہاں
مرا مقام ہی کیا ہے جو مَیں بُرا مانوں
جو میرے سر پہ ٹھہرتا تلک نہیں ماجدؔ
مَیں ایسے ابرِ گریزاں کو کیوں رِدا مانوں
ماجد صدیقی
Advertisements