ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 68
نظر اُٹھے بھی تو خُود ہی کو دیکھتا ہوں مَیں
نجانے کون سے جنگل میں آ بسا ہوں مَیں
یہ کس ہجوم میں تنہا کھڑا ہوا ہوں مَیں
یہ اپنے آپ سے ڈرنے سا کیوں لگا ہوں مَیں
وگرنہ شدّتِ طوفاں کا مجھ کو ڈر کیا تھا
لرز رہا ہوں کہ اندر سے کھوکھلا ہوں مَیں
یہ کیوں ہر ایک حقیقت لگے ہے افسانہ
یہ کس نگاہ سے دُنیا کو دیکھتا ہوں مَیں
برس نہ مجھ پہ ابھی تندیِ ہوائے چمن
نجانے کتنے پرندوں کا گھونسلا ہوں مَیں
تمہاری راہ میں وہم و گماں کا جال تو تھا
مجھے یہ دُکھ ہے کہ اِس میں اُلجھ گیا ہوں مَیں
یہ کس طرح کی ہے دِل سوزی و خنک نظری
یہ آ کے کون سے اعراف پر کھڑا ہوں مَیں
اِس اپنے عہد میں، اِس روشنی کے میلے میں
قدم قدم پہ ٹھٹکنے سا کیوں لگا ہوں مَیں
مری زمیں کو مجھی پر نہ تنگ ہونا تھا
بجا کہ چاند کو قدموں میں روندتا ہوں مَیں
سکوتِ دہر کو توڑا تو مَیں نے ہے ماجدؔ
یہ ہنس دیا ہوں نجانے کہ رو دیا ہوں مَیں
ماجد صدیقی
Advertisements